بلوچستان گرینڈ الائنس کا احتجاج، تنخواہیں بڑھانے سے 20 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، حکومتی موقف
کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان میں سرکاری ملازمین کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج جاری ہے۔ منگل کو دوسرے روز بھی پانچ سے زائد مقامات پر اہم شاہراہیں بند کی گئیں جس سے صوبے کے کئی علاقوں میں آمد و رفت متاثر ہوئی۔ بلوچستان گرینڈ الائنس نے اعلان کیا ہے کہ 15 جنوری کو صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاﺅن ہوگا اور 20 جنوری کو کوئٹہ میں دھرنا دیا جائے گا۔ پیر کو خضدار، لسبیلہ، قلعہ سیف اللہ، نصیرآباد، نوشکی اور پنجگور میں اہم شاہراہیں بند کی گئیں۔ منگل کو قلات، پشین، لورالائی، دالبندین اور پسنی میں احتجاج کیا جارہا ہے، شاہراہوں کی بندش سے آمدروفت متاثراور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان کے درجنوں محکموں کے ملازمین گرینڈ الائنس بناکر گزشتہ سات ماہ سے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاﺅنس (ڈی آر اے) کے حصول کے لیے مشترکہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صوبے کے محکموں میں تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے کم تنخواہوں والے ملازمین کو 30 فیصد الاﺅنس دیا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین ہیں اور انہیں یہ الاﺅنس دینے سے صوبے پر 16 سے 20 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔


