بلوچستان کے ہزاروں خاندانوں کا دار و مدار سرحدی تجارت پر ہے، بندش حل نہیں، ناانصافی اور عوام دشمن پالیسی ہے، ڈاکٹر مالک
تربت (بیورو رپورٹ) نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے وفد نے نیشنل پارٹی تربت کے سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ وفد نے سرحدی راستوں کی بندش کے باعث عوام کو درپیش شدید معاشی مشکلات، بےروزگاری اور روزمرہ زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات سے پارٹی سربراہ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ بلوچستان کے عوام کی معاشی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور صوبے کی موجودہ صورتحال میں روزگار کے ذرائع انتہائی محدود ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ہزاروں خاندانوں کا دار و مدار سرحدی تجارت پر ہے، جس کی بندش عوام کو فاقہ کشی اور معاشی بدحالی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ دنیا بھر میں بارڈرز کو قانونی تجارت، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں عوام کی جائز اور قانونی تجارت کو اسمگلنگ قرار دے کر بند کیا جا رہا ہے، جو سراسر ناانصافی اور عوام دشمن پالیسی ہے۔ نیشنل پارٹی بارڈر ٹریڈ کو عوام کی روزی روٹی کا جائز ذریعہ سمجھتی ہے اور اس کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندی کو مسترد کرتی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کا حل بندش نہیں بلکہ ضابطہ کاری، سہولت کاری اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ممکن ہے۔ بلوچستان میں پہلے ہی صنعتوں اور روزگار کے مواقع کی شدید کمی ہے، ایسے میں سرحدی تجارت کی بندش صوبے کے عوام کو مزید محرومی کی طرف دھکیل رہی ہے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ نیشنل پارٹی بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی اور ان کے جائز مطالبات کے حق میں ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی بارڈر ٹریڈ کے تحفظ، بحالی اور عوام کے معاشی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور کمیٹی کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔


