’ادھر ہم، ادھر تم‘ ذوالفقار علی بھٹو کا نعرہ تھا، میرا نہیں، بلوچستان کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے، سردار اختر مینگل
کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انڈین چینل پر نشر ہونے والے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ ریاست کے پاس فیصلے کا اختیار ہے جیسا کہ اس نے 1970ءمیں کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے سوال اٹھایا تھا کہ بلوچستان کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ریاست اب بھی یہ اختیار استعمال کرسکتی ہے، میں نے اس انٹرویو میں اپنے طور پر کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔‘ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ نظام واضح طور پر کام نہیں کر رہا تو ریاست کے پاس یہ اتھارٹی ہے کہ وہ اپنے ہی کیے ہوئے فیصلے پر دوبارہ نظرثانی کرے، جیسا کے اس نے پہلے کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ’ادھر ہم، ادھر تم‘ ذوالفقار علی بھٹو کا نعرہ تھا، میرا نہیں، یہ ریاست کی اپنی ہی پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے ایسے سوالات دوبارہ جنم لیتے ہیں، 1971ءمیں بھٹو نے تو یہاں تک کہا تھا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی ڈھاکہ گیا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، ان کا کہنا تھا اس فورم پر یہ گفتگو ہورہی تھی کہ کیا بلوچستان کے مسائل کے سیاسی حل کے لیے ریاست سنجیدہ ہے تو اس پر میرا جواب تھا کہ بالکل نہیں، ریاست اس معاملے میں بالکل سنجیدہ نہیں ہے


