سپریم کورٹ نے این اے 251 پر خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب قرار دیدیا، جے یو آئی قومی اسمبلی میں ایک اور نشست سے محروم ہوگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) این اے 251 پر سپریم کورٹ نے خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب قرار دے دیا، الیکشن کمیشن کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم،سپریم کورٹ نے عام انتخابات کے حلقہ این اے 251 سے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار ڈکلیئر کر دیا ہے اور الیکشن کمیشن کو ان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس کے باعث جمعیت علمائے اسلام (ف) قومی اسمبلی میں اپنی ایک اور نشست سے محروم ہوگئی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی، جہاں خوشحال کاکڑ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقدمہ فارم 45 کے گرد گھومتا ہے اور 10 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 اور فارم 48 میں فرق واضح ہے، جس میں ان کے امیدوار کے ہر پولنگ اسٹیشن سے 100 ووٹ کم کیے گئے جبکہ مخالف امیدوار سید سمیع اللہ کے ووٹوں میں اضافہ کیا گیا۔ دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ جس نے بھی یہ فارمولا بنایا اس نے 100 ووٹوں کا ہی بنایا اور رات کے وقت ایسے کاموں میں آسانی ہوتی ہے، جبکہ جسٹس شاہد وحید نے تاکید کی کہ انتخابات میں سب سے زیادہ اہمیت ریکارڈ کی ہوتی ہے اور عوام کی رائے دستاویزات سے ظاہر ہو رہی ہے۔ عدالت میں ریٹرننگ آفیسر (آر او) کی ذمہ داریوں اور ان کے خلاف کارروائی پر بھی بحث ہوئی، جہاں جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ کیا کبھی غلط نتائج پر کسی آر او کے خلاف کارروائی ہوئی ہے، کیونکہ ان پر بھاری ذمہ داری ہوتی ہے۔ مخالف امیدوار کے وکیل کامران مرتضیٰ نے موقف اپنایا کہ ٹریبونل اور سپریم کورٹ میں لیے گئے موقف میں تضاد ہے اور کیس ریمانڈ کا بنتا ہے، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے خوشحال خان کے فارم 45 کو درست تسلیم کیے جانے پر عدالت نے عرصے سے زیر التوا اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے خوشحال کاکڑ کو کامیاب قرار دے دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے