نیا عالمی انتشار اور قومی استحکام

تحریر: عنایت الرحمن
قارئین اس شخص کا ذرا تصور کریں جو رات کی تاریکی میں کسی سنسان سینما ہال میں اکیلا بیٹھا ایک ہارر مووی دیکھ رہا ہو۔ ہر لمحہ اچانک ابھرتی چیخ، ہر منظر میں چھپا ہوا خوف، ہر خوبصورت چہرے کے پیچھے پوشیدہ درندگی یہ سب کچھ اس کے اعصاب کو مفلوج کر رہا ہے۔ پردہ سکرین پر پھیلے خوف سے اس کے پسینے چھوٹنے لگتے ہیں اور اسے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ اپنی انکھیں بند کر لے یا کانوں میں انگلیاں ٹھونس دے، فلم کا ہر کردار پہلے کردار سے زیادہ بھیانک روپ اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے وہ نجات دہندہ کا منتظر رہتا ہے مگر ہر وہ کردار جسے وہ نجات سمجھتا ہے اس کی نقاب کشائی ایک نئی ہولناکی کو جنم دیتی ہے۔ کچھ ایسا ہی منظرنامہ آج کی عالمی سیاست پیش کر رہی ہے۔ ایک جانب ایپسٹین فائلز نے خوشنما چہروں و بظاہر اعلیٰ اخلاقی قدروں کی حامل شخصیات کی درندگی عالمی سطح پر عیاں کر دی ہے اور جو مسیحا سمجھے جاتے تھے وہ شیطان سے بھی بدتر روپ میں سامنے آئے ہیں دوسری جانب غزہ میں سسکتی انسانیت اشرف المخلوقات کے ٹائٹل پر سوالیہ نشان ہے لگتا ایسا ہے کہ پوری دنیا میدان جنگ میں تبدیل ہو رہی ہےطاقت کے مراکز صف آرا ہو رہے ہیں، پراکسی جنگیں جاری ہیں، وسائل پر قبضے کی دوڑ ہے، اور دنیا ایک نئے عالمی انتشار“نیو ورلڈ ڈس آرڈر”کی گرفت میں دکھائی دیتی ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل پانے والا عالمی نظام جس کی سر براہی امریکہ کر رہا تھا اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ ا±س عہد میں قائم کیے گئے ادارے اقوامِ متحدہ، عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی تجارتی تنظیم مستحکم قواعد پر مبنی عالمی نظام کے ضامن سمجھے جاتے تھے بری طرح ناکام ہو گیے ہیں۔ آج سلامتی کونسل کے مستقل اراکین P5 کی ویٹو طاقت اکثر عالمی فیصلوں کو یرغمال بنا لیتی ہے۔ فلسطین سے یوکرین تک اور شام سے سوڈان تک، عالمی ادارے تنازعات کے حل میں مو¿ثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ مسئلہ صرف بے عملی کا نہیں بلکہ نمائندگی کے فقدان کا بھی ہے۔ افریقہ جیسے براعظم کے مسائل ایجنڈے پر تو غالب ہیں یعنی سلامتی کونسل کے ایجنڈے کا نصف سے زیادہ حصہ افریقی تنازعات سے متعلق ہے لیکن کوئی بھی افریقی ملک مستقل نشست نہیں رکھتا۔ یہی عدم توازن عالمی بیڈ گورننس کی جڑ ہے۔
گلوبلائزیشن کے بعد اب ڈی گلوبلائزیشن، بڑھتی ہوئی کثیر قطبیت، ماحولیاتی بحران، ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی کی بالادستی نے بین الاقوامی تعلقات کی ہیئت بدل دی ہے۔ بڑی طاقتوں کی مسابقت چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ عالمی مالیاتی دباو¿، تجارتی پابندیاں، توانائی بحران اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل تیسری دنیا کے ممالک کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یوں عالمی بیڈ گورننس کا بوجھ ا±ن ریاستوں پر زیادہ پڑتا ہے جو پہلے ہی داخلی کمزوریوں کا شکار ہوں۔
پاکستان اسی عالمی ہلچل کے مرکز میں کھڑا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے غیر معمولی اسٹریٹیجک اہمیت دیتی ہے۔ مشرق میں بھارت کے ساتھ تاریخی تنازعات، مغرب میں افغانستان کی غیر یقینی صورتحال، جنوب مغرب میں ایران کے ساتھ حساس سرحد اور شمال میں چین جیسی ابھرتی عالمی طاقت یہ سب پاکستان کو ایک ایسے جغرافیائی چوراہے پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں ہر فیصلہ علاقائی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ اقدام اور اس میں پاکستان کی شمولیت، امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی رقابت، افغانستان میں عدم استحکام اور مشرق۔ وسطیٰ کی کشیدگی یہ سب عوامل پاکستان کی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی پر دباﺅ ڈالتے ہیں۔ پاکستان کا سیاسی نظام عوام اور خواص دونوں میں ہمیشہ زیر بحث رہتا ہے اور اور ا سے ہائبرڈ نظام کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ ایسے عالمی ماحول میں پاکستان کا ہائبرڈ نظام محض ایک سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ہائبرڈ ماڈل، جس میں جمہوری ڈھانچہ اور ریاستی اداروں کی مضبوط شمولیت شامل ہوتی ہے، دراصل ایک عبوری انتظام ہے جس کا مقصد سلامتی، پالیسی تسلسل اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک ترکی، روس، مصر اور انڈونیشیا کسی نہ کسی شکل میں ایسے ماڈل کا تجربہ رکھتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کا تجربہ عالمی رجحان سے جدا نہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ عدم استحکام، بار بار کی حکومتوں کی تبدیلی، کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے اور شدید سیاسی پولرائزیشن سے عبارت رہی ہے۔ ایسے میں مکمل مثالی جمہوری ماڈل کی فوری توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔ قومی سلامتی کے چیلنجز، دہشت گردی کے خطرات اور معاشی بحران جیسے عوامل ایک ایسے نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں جس میں ریاستی ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ اگر یہ ہم آہنگی قومی مفاد، آئینی دائرے اور ادارہ جاتی توازن کے اندر رہے تو یہ استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے گڈ گورننس کے لیے کیے گئے اقدامات اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن، ای گورننس، ٹیکس نظام کی اصلاحات، کفایت شعاری مہم، اور مالیاتی نظم و ضبط پر زور یہ سب انتظامی بہتری کی جانب پیش رفت ہیں۔ سرکاری محکموں میں کارکردگی کے اشاریے متعارف کرانا، شفافیت بڑھانا اور احتساب کے عمل کو مو¿ثر بنانا اس امر کا اظہار ہے کہ ریاست اندرونی اصلاحات کے ذریعے عالمی دباو¿ کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ گڈ گورننس محض نعرہ نہیں بلکہ ریاستی بقا کی شرط بن چکی ہے۔ اس تناظر میں صوبہ بلوچستان کی بات کی جائے تو بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، پاکستان کی سلامتی اور ترقی دونوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صوبہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی، معاشی پسماندگی اور تاریخی محرومیوں جیسے مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہاں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ موجودہ صوبائی قیادت نے گورننس کی بہتری کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ساٹھ نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا جس کا محور میرٹ، شفافیت اور جواب دہی ہے۔ سرکاری تقرریوں میں سیاسی اثر و رسوخ کم کرنے، محکموں کی کارکردگی جانچنے کے لیے کلیدی کارکردگی اشاریے (KPIs) متعارف کرانے اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی کو تیز کرنے جیسے اقدامات گڈ گورننس کی سمت اشارہ کرتے ہیں۔
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے ان اصلاحات کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انتظامی بہتری، مالیاتی ڈھانچے کی تنظیم نو، فنانس ڈیپارٹمنٹ میں اسپیشلسٹ ونگ کا قیام اور وسائل کے شفاف استعمال پر زوریہ سب اس عزم کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت ادارہ جاتی مضبوطی چاہتی ہے۔ اگرچہ مسائل پیچیدہ ہیں، مگر اصلاح کی سمت میں سفر شروع ہو چکا ہے۔
بلوچستان کے لیے قلیل مدتی اقدامات میں امن و امان کی بحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مقامی حکومتوں کا فعال کردار ضروری ہے۔ وسط مدتی حکمت عملی میں انفراسٹرکچر کی ترقی، صنعتوں کا قیام، معدنی وسائل کا شفاف استعمال اور روزگار کے مواقع شامل ہونے چاہئیں۔ طویل مدتی منصوبہ بندی میں تعلیم کے معیار کی بہتری، فنی تربیت، قبائلی تنازعات کا مکالمے کے ذریعے حل اور گوادر کی مکمل استعداد کا استعمال شامل ہے۔ اگر وفاق اور صوبہ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تو بلوچستان نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ قومی معیشت کا محرک بھی بن سکتا ہے۔
عالمی بیڈ گورننس کے اس دور میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج داخلی استحکام اور مو¿ثر حکمرانی ہے۔ ہائبرڈ ماڈل کو مستقل حل نہیں بلکہ عبوری استحکام کے ذریعے مکمل جمہوری بلوغت کی طرف سفر کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ گڈ گورننس، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور عوامی شمولیت وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط ریاست کھڑی ہو سکتی ہے۔ آج پاکستان کو بھی ایسے شعور کی ضرورت ہے جو حقیقت پر مبنی ہو، عالمی انتشار کے شور میں داخلی صفوں کو مضبوط کرتا ہو، اداروں کو مستحکم بنانا اور عوامی اعتماد بحال کرنا اس سے مقصود ہو۔ اگر ریاست اور عوام ایک مشترکہ وڑن کے ساتھ آگے بڑھیں تو عالمی منظر نامے کی خوفناکی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور اسطرح داخلی طور پر امید، استحکام اور ترقی کے روشن منزل پر پہنچا جاسکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے