آبنائے ہرمز میں کون غرق ہوگا؟

تحریر: انور ساجدی
جنگ ایک تباہی و بربادی ہے اس لئے اس پر خوش ہونا بنتا نہیں ہے ایران کے رہبر سید علی خامنہ ای کی شہادت بھی ایک افسوسناک واقعہ ہے لیکن ایرانی صورتحال کے اس سے ہٹ کر بھی پہلو ہیں جن کا اس خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایران جو میزائل داغ رہا ہے وہ عارضی اور وقتی کارروائی ہے کیونکہ جس دن یہ میزائل ختم ہوگئے بازی پلٹ جائے گی۔ آخر ان میزائلوں نے جلد یا بدیر ختم ہو جانا ہے۔ اس کے سوا ایران کے پاس اپنے دفاع کے لئے کوئی موثر بندوبست نہیں ہے امریکی اور اسرائیلی جنگی طیارے دندناتے آتے ہیں اور بمباری کر کے چلے جاتے ہیں۔ایران ان کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ہاں انسانی جذبہ قابل قدر حد تک موجود ہے لیکن وہ بھی منقسم ہے۔ایران نے امام خمینی کے وقت عراق کو اپنے عوام کے جذبہ سے پسپا کر دیا تھا لیکن امریکہ اور اسرائیل عراق نہیں ہیں دونوں پر جنگی خون سوار ہے لیکن ان کے پاس اپنے مفادات کو بچانے کے لئے اور راستہ بھی نہیں ہے۔امریکہ کو معاشی اورتذویراتی اہداف درکار ہیں جبکہ اسرائیل کو بقا کی ضمانت چاہیے۔اگر ایران نے جنگ کو طویل دی تو امریکہ کو بے شمار اقدامات کرنا پڑیں گے اسے ایران کے اندر اپنے حامیوں کو اٹھانا ہوگا اور بغاوت کروانی ہوگی غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کی نظر سیدھی ”آربیل“جاکر کر دستان کے صدر مسعود بزرانی پر ٹھہری ہے۔ایران کے حوالے سے امریکہ نے تعاون طلب کیا ہے تاکہ ایران کے کردوں کو بغاوت پر آمادہ کیا جا سکے۔اس کے باوجود کہ امریکہ نے کردوں کی مدد سے داعش کو شام اور عراق میں شکست سے دوچارکر دیا تھا لیکن مطلب نکل جانے کے بعد امریکہ نے حسب معمول بے وفائی کا ارتکاب کیا اور شام کو گولان کی پہاڑیوں سے تعلق رکھنے والے یہودی احمد الشرع اور سابق جولانی کے حوالے کر کے چلتا بنا۔اس حقیقت کے باوجود عراقی کردوں کے لیڈر مسعود بزرانی نے مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق امریکہ سے تعاون کی حامی بھری ہے کرد دعا مانگ رہے ہیں کہ جنگ طویل ہو جائے تاکہ دیگر ممالک بھی اس میں شریک ہو جائیں وہ جانتے ہیں کہ ایک خونریز اور طویل جنگ کے نتیجے میں ہی ایران تقسیم ہو سکتا ہے اور جب تک یہ بڑا ملک تقسیم نہ ہو جائے تو کردوں سمیت دیگر مقبوضہ اقوام آزادی حاصل نہیں کرسکتیں۔ابھی تک جو صورتحال ہے وہ حوصلہ افزا نہیں ہے روس اور چین زبانی کلامی ایران کی حمایت کررہے ہیں چین نے ایران کو جو دفاعی نظام دیا تھا وہ ناکام ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں البتہ روس نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ باز نہ آیا تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔خود روس کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک یوکرین کو شکست نہ دے سکا۔روس اور چین علی الاعلان ایران کی مدد کے لئے بھی میدان میں نہیں آسکتے لیکن روس کو امریکہ اور یورپ سے جان چھڑانے کے لئے کودنا پڑے گا۔چاہے تیسری عالمی جنگ ہی کیوں نہ شروع ہو جائے۔ایران کا سب سے موثر ہتھیار آبنائے ہرمز کی بندش ہے کیونکہ اس سے تیل کی سپلائی بند ہوگئی ہے۔امریکہ اس کے خلجی اتحادیوں کے لئے یہ تکلیف دہ امر ہے اس سے دنیا کی معیشت بھی تہہ و بالا ہو جائے گی۔چنانچہ لگتا یہی ہے کہ بلوچ سمندر کے پانیوں میں عہد جدید کا بڑا معرکہ لڑا جائے گا۔جب ایران فارس تھا تو کراچی سے لے کر بندر عباس تک سارا سمندر بلوچ وطن تھا ہرمزگان کے سارے علاقے میں بلوچ آباد تھے اور یہ سارے کا سارا علاقہ مغربی بلوچستان تھا سابق نام نہاد شاہ ایران رضا شاہ کے والد نے اس علاقے پر جبری قبضہ کرلیا جبکہ انگریزجنرل ڈائر نے ایک بہت بڑا علاقہ ریاست قلات سے چھین کر ایران کو تحفے میں دیا اس وقت سے اب تک بلوچ ایک بدترین غلامی کی زندگی گزاررہے ہیں۔سابق شاہ نے کچھ مداوا کیا تھا لیکن اسلامی حکمرانوں نے کھلی نسل کشی کا ارتکاب کیا وہاں پر روز بے گناہوں کی لاش کرینوں پر لٹکی نظر آ رہی ہیںبدقسمتی سے ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے دور میں مظالم میں بہت ہی اضافہ دیکھنے میں آیا۔اگر ایران نے دیریا مزاحمت کی تو امریکہ کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوگا کہ وہ ایران کی اقلیتی عوام کو منظم کر ے اور انہیں بربریت اور نسل کشی سے نجات دلانے کے لئے ان کی ہر طرح کی مدد کرے۔جو خلیجی شیوخ اور موروثی آمر حکمران ہیں ان کے حق میں بھی یہی بہتر ہوگا کہ ان کی سلامتی کو درپیش سب سے بڑے چیلنج کو بروقت ختم کیا جا سکے ورنہ یہی ریاستیں اور امارتیں ریت کے گھروندے ثابت ہوں گے جیسے کہ حالیہ ایرانی حملوں نے ان ریاستوں کی چمک دمک اور جعلی خوشحالی کو محض تین دن میں دبڑ دوس کر دیا ہے۔ایران کے بے مہار ریجنل سپرپاور بننے کے بعد ان شیوخ کا کوئی پرسان حال نہ ہوگا جنہوں نے اپنے قدرتی وسائل بلاوجہ ضائع کر دئیے ہیں نہ ان کے پاس فوج ہے اور نہ اسلحہ بس وہ سونے سے بنے جہازوں میں بیٹھ کر ملک ملک گھوم رہے ہیں اور عیاشی کر رہے ہیں اگرچہ امریکہ ایک استعماری اور استحصالی قوت ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لیبیا، عراق اور کویت کے عوام کو اس نے آزادی دلائی ہے۔اگر مقبور اور غلاموں کو کوئی شیطان بھی نجات دلائے تو وہ ان کے لئے نجات دہندہ کہلائے گا کرد جانتے ہیں کہ جب تک خطے میں غیر معمولی الات پیدا نہیں ہوں گے ان کی نجات کا کوئی امکان نہیں ہے کوئی بھی غیرمعمولی تبدیلی بہت ہی بڑے واقعات اور سانحات کے بعد ہی وقوع پذیر ہوتی ہے اگر 1945ءکو جاپان پرل ہاربر پر حملہ نہ کرتا تو امریکہ کہ ایٹم بم گرانے کا موقع نہ ملتا اور نہ ہی ساری دنیا امریکی بالادستی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوتی۔صدرٹرمپ نے اشاروں اور کنایوں میں کہا ہے کہ اگر ایرانی رجیم باز نہ آئی تو وہ تاریخ کے بدترین اور ہولناک اسلحہ استعمال کریں گے گو کہ ایک بار پھر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ممکن نہیں پھر بھی اس خطرے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔مثال کے طورپر اگر ایران طیارہ بردار جہازوں ابراہام لنکن اور جبرالٹر فورڈ کو غرق کر دے تو10 ہزار امریکیوں کا بدلہ ہولناک طریقے سے لیا جائے گا۔امریکہ نے ورلڈ ٹاور پر حملہ کے بعد افغانستان کو تاراج کر دیا تھا وہ ایران کے خلاف زیادہ طاقت استعمال کرے گا کیونکہ ایران کا محل وقوع زیادہ اہم اورنازک ہے۔خدا نہ کرے کہ اس خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کا اسعتمال ہو لیکن امریکی بچونگڑا اسرائیل مسلسل زور لگا رہا ہے کہ امریکہ ایران کو نیست و نابود کر دے اسرائیل جانتا ہے کہ سارے عرب حکمران ناکارہ اور خواجہ سرا بن چکے ہیں اور درپردہ اس سے ملے ہوئے ہیں اس لئے اس کی سلامتی کو ان سے کوئی خطرہ نہیں واحد خطرہ ایران ہے جس کے کروز اور بیلسٹک میزائل اسرائیل کے اندر تباہی مچا رہے ہیں اسے خدشہ ہے کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار بنا لئے تو وہ اپنے میزائلوں کے ذریعے انہیں اسرائیل پر فائر کر دے گا۔اگر یہ گر گئے تو بھی تباہی آئے گی اگر راستے میں ضائع ہوگئے تو بھی لاکھوں کروڑوں انسان مارے جائیں گے۔عالمی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کو اسرائیل نے اکسایا کہ وہ ایران پر حملہ کرے اور اس کے پیچھے دو عرب ممالک بھی زور دے رہے تھے۔فی الحال یہ عرب ممالک خود تباہی کی زد میں ہیں دبئی کا سونے سے بنا ہوٹل برج العرب ایرانی حملوں کی زد میں آیا ہے جبکہ برج الخلیفہ بال بال بچ گیا ہے ان حملوں کے بعد دبئی کو اٹھنے میں کئی برس لگیں گے وہاں سیاحت اور سرمایہ کاری دوبارہ شروع ہونا کوئی آسان کام نہ ہوگا۔وقت ماتم ہے کہ ملک ریاض سمیت پاکستانی سیاست دانوں اور حاکمان اعلیٰ کے اربوں ڈالر دبئی میں غرق ہوگئے ہیں ملک ریاض تو پاکستان سے بھاگ کر پراجیکٹ شروع کرنے دبئی گئے تھے ابھی اونٹ پر سوار ہی ہوئے تھے کہ انہیں سانپ نے کاٹ لیا۔ ان کے لئے اچھا ہوگا کہ حکمرانوں سے معافی تلافی کر کے واپس پاکستان آکر کام شروع کریں وہ قدم بوسی کا گر شہبازشریف سے حاصل کرسکتے ہیں۔
جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے تو ان کو ایران پر امریکی حملوں سے کوئی تشویش نہیں ہے گلگت بلتستان اسلام آباد اور کراچی میں جو مظاہرے ہوئے وہ غیرمعمولی واقعات نہیں ہیں باقی سب کچھ نارمل ہے البتہ حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ خلیج میں جنم لینے والے بحران سے کیسے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔خواجہ آصف نے ایک گہری مگر ذومعنی بات کہی ہے کہ بعض عناصر اسرائیلی اثرات کو پاکستان کی سرحد تک لانا چاہتے ہیں انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ اثرات کیسے یہاں آسکتے ہیں۔کیا ایران کے حصے بخرے ہونے کے نتیجے میںخوزستان اور کردستان اسرائیل کے ہاتھ لگیں گے یا کوئی اور معاملہ ہے۔اسی طرح پاکستانی حکمرانوں کو افغانستان پر حملے بند کر کے گفت و شنید کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ملک کے اعلیٰ حمکرانوں کو چاہیے کہ وہ خلیج کی صورتحال اور بھارتی عزائم پر نظر رکھیں باقی یہ جو افغانستان وغیرہ ہیں یہ وزیرداخلہ کے ایس ایچ او کی مار سے زیادہ نہیں ہیں۔اسرائیل کہیں خواجہ صاحب کا ہمسایہ نہ ہو جائے کم بخت مودی تو یہی شیطانی کر رہا ہے وہ اس وقت امریکہ کے بعد روئے زمین پر اسرائیل کا واحد دوست ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں