سوئی، مقامی آبادیوں کی فلاح و بہبود کے لئے 521 ملین روپے کے نئے سی ایس آر منصوبوں سے متعلق پی پی ایل کی تقریب کا انعقاد
کوئٹہ (ین این آئی) پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل) نےبلوچستان میں کاروباری سماجی ذمہ داری(سی ایس آر)پروگرام کے تحت تقریباً 521 ملین روپے کی مجموعی لاگت سے نئے منصوبوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ ان منصوبوں میں 64 نئی اسکالرشپس، 50 مقامی نوجوانوں کے لیے ہنر مندی اور روزگار کاپروگرام،ضلع ڈیرہ بگٹی میں 10 سال قبل قائم کئے گئے تعلیمی و صحت کی سہولیات کی بحالی اورسوئی شہر کو مفت گیس کی فراہمی کےنظام کے تحت دور درازآبادیوں کے لیے ایس ایس جی سی ایل کے اشتراک سے نئی علیحدہ گیس سپلائی پائپ لائن کی تنصیب شامل ہیں۔مذکورہ بالا منصوبوں کی افتتاحی تقریب 5 مارچ کو ضلع ڈیرہ بگٹی کے شہر سوئی میں منعقد ہوئی۔جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں ایم ڈی و سی ای او پی پی ایل محمد خالد رحمٰن اور ایم ڈی ایس ایس جی سی ایل امین راجپوت کے علاوہ اراکین قومی اسمبلی، ضلعی حکومت کے نمائندگان، کمپنی کے افسران اور علاقے کی معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔ایم ڈی پی پی ایل نے تقریب کے دوران نئے سی ایس آر اسکیموں کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو عطیات کے تین چیک پیش کیے۔ بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (BTEVTA)کو نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے پروگرام کے تحت 121 ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ 50 مقامی نوجوانوں کوفنی تربیت دی جا سکے اور انہیں خلیجی و یورپی سمیت دیگربیرونی ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔ملین روپے دیے گئے ہیں تاکہ بلوچستان کے 64 95 کو اسکالرشپ پروگرام کے تحت (BEEF) مزید برآں، بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ طلباءپرائمری سے لے کر ہائر سیکنڈری (انٹر)/اے لیول کی سطح تک مفت تعلیم حاصل کر سکیں، جس کے دوران انہیں فیس، رہائش اور دیگر اخراجات فراہم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، ضلع ڈیرہ بگٹی میں 10 سال سے زائد عرصے سے قائم 14 تعلیمی اورطبّی سہولیات کی بحالی کے لیے پہلی قسط کے طور پر 152.450 ملین روپے دیے گئے جبکہ مکمل منصوبے کی کل لاگت 304.906 ملین روپے ہے۔اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خوشحال بلوچستان کے لیے اپنے وڑن کا اظہار کیا اور صوبے کی پسماندہ آبادیوں کی بہتری کے لیے پی پی ایل کے سی ایس آر پروگرام کے تحت جاری اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات صوبے میں سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دینے اور مقامی آبادی کے لیے پائیدار مواقع پیدا کرنے کے حکومتی اقدامات کو فروغ دیتے ہیں۔


