ریکوڈک مائننگ کمپنی نے بلوچستان میں سونے اور تانبے کے میگا پروجیکٹ پر کام کی رفتار 12 ماہ کیلئے محدود کردی، بلوم برگ

کوئٹہ (یو این اے) مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور علاقائی سیکورٹی خدشات کے اثرات پاکستان کے سب سے بڑے کان کنی کے منصوبے ‘ریکوڈک’ پر پڑنے لگے۔ معروف عالمی کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن نے اعلان کیا ہے کہ بلوچستان میں واقع تانبے اور سونے کے اس میگا پراجیکٹ پر کام کی رفتار کو سست کیا جا رہا ہے۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی نے یہ فیصلہ ملک اور خطے میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات کے پیشِ نظر کیا ہے، جس کے تحت منصوبے کے تمام پہلوﺅں کا جائزہ اب مزید 12 ماہ تک جاری رہے گا اور اس دوران تعمیراتی و ترقیاتی سرگرمیاں محدود رہیں گی۔ بیرک گولڈ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ ریکوڈک کی طویل مدتی اہمیت پر اب بھی یقین رکھتے ہیں اور منصوبہ فعال انتظام کے تحت جاری رہے گا، تاہم موجودہ حالات میں سرگرمیوں کو سست کرنا ناگزیر ہے۔ اس اعلان کے بعد نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں بیرک کے حصص میں 3.2 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تاخیر سے کمپنی کے جغرافیائی خطرات کم ہو سکتے ہیں، لیکن عالمی سطح پر اس بڑے منصوبے کے تعطل سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ کمپنی نے اپنے پاکستانی شراکت داروں اور مقامی ڈویلپرز کو بھی اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں