کوئٹہ میں ایل پی جی کی قیمت ایک ہی دن میں 70 روپے بڑھا دی گئی، سرکاری نرخ 304، مارکیٹ میں 470 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی
کوئٹہ (یو این اے) پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایل پی جی (Liquefied Petroleum Gas) کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو نہ صرف گیس کی عدم دستیابی بلکہ مہنگے داموں خریداری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایک ہی دن میں فی کلو قیمت میں 70 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جمعرات کے روز ایل پی جی 400 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہی تھی، تاہم جمعہ کے روز مختلف مارکیٹوں میں یہی گیس 470 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخ 304 روپے فی کلو ہے، مگر عملی طور پر شہریوں کو اس قیمت پر گیس دستیاب نہیں ہو رہی، جس سے سرکاری پالیسیوں کی عملداری پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں یو این اے کے مطابق ایل پی جی کی قلت کے باعث بعض عناصر نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلیک مارکیٹنگ شروع کر دی ہے، جہاں گیس من مانے نرخوں پر فروخت کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھریلو ضروریات، خصوصا کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی ناگزیر ہو چکی ہے، مگر بڑھتی قیمتوں نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے حکومت نے یکم اپریل کو ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپے فی کلو کا بڑا اضافہ کیا تھا، جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ سپلائی میں بہتری آئے گی، تاہم اس کے برعکس مارکیٹ میں صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے ایل پی جی ڈیلرز کا مقف ہے کہ مارکیٹنگ کمپنیاں طلب کے مطابق گیس فراہم نہیں کر رہیں، جس کے باعث طلب اور رسد کے درمیان بڑا فرق پیدا ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سپلائی بہتر نہ بنائی گئی تو بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے ڈیلرز نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ایل پی جی کی قیمت 500 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جو شہریوں کے لیے ناقابل برداشت ہو گی دوسری جانب عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی مصنوعی قلت کا نوٹس لیا جائے، بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سرکاری نرخوں پر گیس کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


