مستونگ میں سانحہ میلاد النبی کے 69 زخمی مالی امداد سے محروم، حکومت متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کرے، سنی تحریک بلوچستان
مستونگ (ویب ڈیسک) پاکستان سنی تحریک بلوچستان کے صوبائی صدر صاحبزادہ محمد سعد اللہ خان باروزئی نے اپنے جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس پر مورخہ 29ستمبر 2023 بروز جمعہ کو خودکش دھماکہ ہوا تھا جس میں تقریباً 50 کے قریب عاشقان رسول شہید ہوئے اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے دلخراش سانحہ میں شہداءاور زخمیوں کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے مالی امداد دینے کا اعلان کیا گیا۔ شہداءکے لواحقین کے مالی معاونت کی گئی لیکن 69 زخمیوں کی ابتک مالی معاونت نہیں کیا گیا ہے جب ان زخمیوں کے لواحقین ڈپٹی کمشنر مستونگ کے پاس جاتے ہیں تو وہ انھیں سی ٹی ڈی حکام کی طرف جانے کا کہہ دیتے ہیں جب سی ٹی ڈی حکام کی طرف اپنے مسائل و فریاد کو لیکر جاتے ہیں تو وہاں سے ڈپٹی کمشنر مستونگ کی طرف انہیں بھیج دیتے ہیں اس چکر میں سانحہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین سال بیت گیا ہے لیکن حکام کی جانب سے مختلف حیلے بہانوں سے زخمیوں کی لواحقین کو ذلیل وخوار کرنے میں عمل پیرا ہیں 2024 اور 2025 میں بار بار علماءکرام کی طرف سے لیٹر دیا گیا مگر اس پر کوئی بھی عملدرآمد نہیں ہوا جس سے لواحقین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں، ان میں ایسے بھی افراد ہیں جن کے گھر سے چار چار افراد بھی شہید ہوئے ہیں اور زخمیوں میں بہت سے معذور ہوگئے ہیں جن کے گھر میں اور کوئی کمانے والا نہیں ہے کبھی ایم ایل سی کے نام پر کبھی افسران تبدیل ہونے کے نام پر جو کہ زخمیوں کے تمام ایم ایل سی اور تمام ریکارڈ سی ٹی ڈی کے آفس میں موجود ہے پھر بھی انہیں ٹال دیتے ہیں جو سانحہ کے زخمیوں کیساتھ ناانصافی ہے جو ہرگز برداشت نہیں کرسکتے، صوبائی صدر نے وزیراعلیٰ بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان، آئی جی پولیس، کمشنر قلات ڈویژن ودیگر حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں، سانحہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخمیوں کی جلد از جلد مالی معاونت کی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کے داد رسی ہوسکے۔


