مائنز اینڈ منرل بل صرف قانونی مسودہ نہیں، ریکوڈک منصوبے پر ہماری حکومت کو ختم کیا گیا، عوامی مفادات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، مولانا واسع

کوئٹہ (آن لائن) سینیٹر و امیر جمعیت علما اسلام بلوچستان مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مائنز اینڈ منرل بل محض ایک قانونی مسودہ نہیں بلکہ بلوچستان کے بچوں کے مستقبل، وسائل پر اختیار اور صوبے کے معاشی حقِ خودمختاری کا بنیادی سوال ہے۔ اس حساس اور قومی اہمیت کے حامل معاملے پر جمعیت علما اسلام نے ہر سطح پر بھرپور، سنجیدہ اور متحرک کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اس بل کو دوبارہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا، جہاں اب اس پر جامع، تفصیلی اور مشاورتی انداز میں بحث ہوگی تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے سے ایک متفقہ اور قابلِ قبول قانون تشکیل دیا جاسکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی نے اس اہم ایشو پر اسمبلی کے فلور، میدانِ عمل، عدالتی فورمز اور دیگر تمام جمہوری پلیٹ فارمز پر بھرپور انداز میں صوبے کے عوام کی نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام کی تاریخ صوبے کے حقوق کے دفاع، وسائل کے تحفظ اور عوامی مفادات کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ ہم نے ہمیشہ اقتدار کو ٹھوکر مار کر اصولوں اور عوامی مفاد کو ترجیح دی ہے اور کبھی بھی صوبے کے اجتماعی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔مولانا عبدالواسع نے ریکوڈک منصوبہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے معاملے پر ہماری حکومت کو ختم کیا گیا، ہمیں مختلف قسم کی مراعات اور پیشکش کی گئیں، مگر ہم نے ہر دباﺅ کو مسترد کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام کا مقدمہ لڑا اور بالآخر کامیابی حاصل کی۔ ہم نے اقتدار کو قربان کیا مگر اپنے ضمیر اور عوامی اعتماد کا سودا نہیں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی جے یو آئی بلوچستان کی واحد بڑی عوامی و اکثریتی سیاسی قوت ہے، لیکن منظم سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے ہمارے عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا، جو اب ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا ہے۔ عوام کے ووٹ کی توہین اور حقیقی نمائندگی سے محروم کرنا ہی صوبے کی موجودہ نازک صورتحال کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جے یو آئی اس صورتحال پر خاموش نہیں رہے گی بلکہ بہت جلد ایک واضح اور مضبوط سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خاموشی عوامی مینڈیٹ کی تضحیک کے مترادف ہے، اس لیے اب ہم میدانِ عمل میں بھرپور انداز میں سامنے آئیں گے اور بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید تیز کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں