یونیورسٹی کالج آف ڈیرہ مراد جمالی میں پوائنٹ بسوں کی کمی دور کرکے طلبا و طالبات کی پریشانی دور کی جائے، بی ایس او
نصیر آباد (پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نصیر آباد زون کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کالج آف ڈیرہ مراد جمالی میں سینکڑوں طلبہ زیر تعلیم ہیں جو کہ مختلف علاقوں مثلا اوستہ محمد، صحبت پور اور گھوٹ حمید خان کھوسہ سے روزانہ کے بنیادوں پر سفر کرکے یونیورسٹی ہذا میں کلاسز لینے آتے رہتے ہیں تاہم بسز کی کل تعداد تین ہیں، دو بس اور ایک چھوٹی کوسٹر ہیں جو کہ سینکڑوں طلبہ کیلے ناکافی ہیں جسکی وجہ سے طلباءو طالبات اوستہ محمد، صحبت پور اور گوٹھ حمید خان کھوسہ کا طویل چکر لگاکر ٹیپل (ڈیرہ مراد جمالی) میں قائم یونیورسٹی تک پہنچتے ہیں۔ اس پورے چکر کے دوران طلبہ و خاص کر طالبات کھڑی ہوکر سفر کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل جعفرآباد کے ایم پی اے نے یونیورسٹی کا دورہ کرکے جذباتی تقریر کرتے ہوئے یونیورسٹی ہذا کو بسز دینے کا وعدہ کیا تھا جو کہ تاحال پوری نہیں ہوسکی۔ بسز کی کمی اور عدم سہولیات کی بنا پر طلبہ کے کلاسز اور پڑھائی متاثر ہورہی ہے۔ طلبہ کے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے کہ انہیں تعلیمی اداروں میں بسز اور لیب جیسے بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں اور انتظامیہ کی جانب سے یا تو خورد برد کی جاتی ہے یا غفلت برتی جاتی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ، ضلعی انتظامیہ اور حکام یونیورسٹی ہذا میں بسز، لیپ ٹاپ تقسیم و دیگر مسائل پر توجہ دیکر طلبہ کے مسائل بنیادی ترجیحات پر حل کریں، وگرنہ طلبہ اپنے حقوق کی تحفظ کیلئے احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور اِن تمام صورتحال میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نصیر آباد زون طلبہ کے تمام اقدامات کا بھرپور حمایت کرکے ان کا ساتھ دیگی۔


