مائنز اینڈ منرل بل پر حکومت کو آگاہ کردیا، بلوچستان کی معدنیات پر یہاں کے عوام کا بنیادی حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، جمعیت
کوئٹہ (صباح نیوز) مائنز اینڈ منرل بل کے ترمیمی ایکٹ کے جائزے کےلئے جمعیت علماءاسلام کے ممبر صوبائی اسمبلی اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی سربراہی میں اپوزیشن پارٹیوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمن، نوابزادہ لشکری رئیسانی، اے این پی اصغر خان، زمرک خان، نیشنل پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی رحمت صالح، اسلم بلوچ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے ندا محمد سنگر، نیشنل ڈیموکریٹک کے احمد جان، میر عثمان بادینی، ایڈووکیٹ رﺅف عطائ، ایڈووکیٹ محمد اقبال شامل تھے۔ اجلاس میں مائنز اینڈ منرل بل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تفصیلی بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کی ٹیکنیکل ٹیم کی آراءکی روشنی میں دو تین دنوں میں ایک متفقہ ڈرافٹ تیار کیا جائے گا، ترمیمی ڈرافٹ کی تیاری کے بعد اسے حتمی شکل دینے کےلیے تمام پارٹیوں کا ایک اور مشترکہ اجلاس جے یو آئی بلوچستان کے سیکرٹریٹ میں ہوگا جس میں ترمیمی بل کا اپرول دیا جائے گا، ترمیمی بل کو حتمی شکل دینے اور اپرول کے بعد حکومت کو پیش کیا جائے گا۔ جے یو آئی نے بلوچستان حکومت پر واضح کردیا تھا کہ بلوچستان کی معدنیات پر بنیادی حق یہاں کے عوام کا ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، بلوچستان پہلے سے بے روزگاری اور سماجی پسماندگی کا شکار ہے اور جے یو آئی کی پالیسی ہے کہ بلوچستان کے وسائل صوبے کی تعلیم ، صحت ، روزگار اور انفراسٹرکچر کی بہتری کےلئے استعمال کیے جائیں۔ جے یو آئی کی سربراہی میں ترمیمی بل کے ذریعے نئے ایکٹ کی منظوری بلوچستان کے عوام کی بڑی کامیابی تصور ہوگی۔


