اسرائیلی ٹینک نے جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کی گاڑیوں کو ٹکر اور انتباہی فائرنگ کردی، یونیفیل فورس
بیروت(این این آئی)لبنان میں تعینات اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس یونیفیل نے بتایا ہے کہ ایک اسرائیلی ٹینک نے جنوبی لبنان میں ان کی گاڑیوں کو ٹکر ماری ہے، جہاں گذشتہ مارچ سنہ 2026 سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ جاری ہے۔یونیفیل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو ایسے دو واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں اسرائیلی فوجیوں نے میرکاوا ٹینک کا استعمال کرتے ہوئے یونیفیل کی گاڑیوں کو ٹکر ماری، جس سے ایک واقعے میں شدید نقصان پہنچا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جنوبی لبنان کے قصبے البیاضہ میں وہ سڑک بھی بند کر دی ہے جو یونیفیل کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔بیان کے مطابق گذشتہ ہفتے کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے علاقے میں انتباہی فائرنگ بھی کی جس کی زد میں آ کر یونیفیل کی ان گاڑیوں کو نقصان پہنچا جن پر واضح علامات موجود تھیں۔ ایک واقعے میں ایسی ہی ایک انتباہی گولی امن دستے کے ایک اہلکار سے محض ایک میٹر کے فاصلے پر لگی جو اپنی گاڑی سے نیچے اترا تھا۔گذشتہ ہفتے یونیفیل میں شامل کئی ممالک نے امن دستوں پر ہونے والے مسلسل حملوںکی مذمت کرتے ہوئے جنگ ختم کرنے پر زور دیا تھا۔انڈونیشیائی سفیر عمر ہادی نے ساٹھ سے زائد ممالک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ ہم یونیفیل پر ہونے والے مسلسل حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جن میں حال ہی میں تین انڈونیشیائی امن دستے کے اہلار جاں بحق جبکہ فرانس، گھانا، انڈونیشیا، نیپال اور پولینڈ کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ہم یونیفیل کے اہلکاروں اور قیادت کے خلاف حالیہ غیر مقبول جارحانہ رویے کی بھی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس اعلامیے میں اسرائیل یا حزب اللہ کا واضح طور پر نام نہیں لیا گیا۔عمر ہادی نے مزید کہا کہ وہ جن ممالک کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ امن دستوں کو نشانہ بنانے والے تمام حملوں کی فوری، شفاف اور مکمل تحقیقات جاری رکھی جائیں اور اس بات پر زور دیا کہ ان حملوں کے مرتکب افراد کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ مارچ سنہ 2026 کے اواخر میں دو الگ الگ واقعات میں تین انڈونیشیائی اہلکار اسرائیلی فائرنگ اور حزب اللہ کی جانب سے نصب کردہ دھماکہ خیز مواد کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئے تھے۔یونیفیل فورس سنہ 1978 سے جنوبی لبنان میں تعینات ہے اور لبنان و اسرائیل کے درمیان بفر فورس کے طور پر کام کرتی ہے۔دو مارچ سنہ 2026 کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے جنوبی لبنان میں تقریبا 8200 فوجیوں پر مشتمل اس عالمی فورس کے مراکز فائرنگ کی زد میں ہیں۔ ایک طرف حزب اللہ اسرائیلی ٹھکانوں پر حملے کر رہی ہے تو دوسری جانب اسرائیلی فوج کی یونٹس جنوبی لبنان کے سرحدی قصبوں میں داخل ہو چکی ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے بدھ کے روز لبنان پر شدید فضائی حملوں کے بعد کہا ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنانا جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس تناظر میں مشترکہ اعلامیے میں لبنان میں دشمنی کے خاتمے، کشیدگی کو روکنے اور فریقین کی مذاکرات کی میز پر واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے، ساتھ ہی لبنان کی وحدت اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔


