گوادر میں بلوچی زبان کے شاعر، محقق و دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کے 100ویں یوم ولادت پر تقریب، مکران کی یونیورسٹیوں کو سید ظہور شاہ اور عطا شاد پر ایم فل کرانی چاہیے، مقررین کا خطاب

گوادر (بیورو رپورٹ) بلوچی زبان کے نامور شاعر، محقق و دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کے یوم ولادت کو 100 سال مکمل۔ آرسی ڈی کونسل میں تقریب۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مہمان خاص، مکران سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں کراچی اور ایران سے آئے مہمانان کی شرکت۔ کتابوں کی رونمائی، شجر کاری، تصاویر کی نمائش، آر ایس آئی بینڈ کی زبردست پرفارمنس۔ عارف صدیق نے سماں باندھ دیا۔ کتابوں کے اسٹال بھی قائم۔ بلوچی زبان کے نامور شاعر محقق و دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کے یوم ولادت کو 100 سال مکمل ہونے پر سید ہاشمی اکیڈمی اور آر سی ڈی کونسل کی جانب سے سید ظہور شاہ ہاشمی آڈیٹوریم آر سی ڈی کونسل میں دو روزہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے افتتاحی روز کے مہمان خاص سابق وزیراعلیٰ بلوچستان و نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ تھے جبکہ تقریب کی صدارت سید ہاشمی اکیڈمی کے صدر علی عیسیٰ نے کی۔ تقریب کی آغاز میں آر ایس آئی بینڈ کے فنکاروں کوروش انور، کبیر خلیل، چاکر اصغر، ابوبکر بلوچ، حنظلہ جی ایم اور حلیم بلوچ نے سید ظہور شاہ ہاشمی کی نظم اپنی دھنوں میں گاکر شائقین کو لطف اندوز کیا جبکہ گوادد کے نوجوان عارف صدیق نے بھی سید ظہور شاہ ہاشمی کی ایک غزل گاکر حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔ تقریب کی افتتاحی تقریب سے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک، سینیٹر جان محمد بلیدی، بلوچی زبان کے نامور ادیب ڈاکٹر اے آر داد، سید ہاشمی اکیڈمی کے صدر علی عیسیٰ، نائب صدر ماجد سہرابی، آر سی ڈی کونسل کے جنرل سیکرٹری بہرام بلوچ، سید ظہور شاہ ہاشمی کے فرزند واجد شاہ ہاشمی، ادیب زاہدہ رئیسی، نیشنل پارٹی کے رہنما اشرف حسین اور بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کے نائب صدر صدیق بلوچ نے کہاکہ سید ظہور شاہ ہاشمی اپنے آپ میں ایک ادارہ تھے۔ وہ ہر وقت بلوچی زبان کی ترقی و آبیاری کے لیے سرگرداں تھے۔ وہ بلوچی زبان کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر لسانیات بھی تھے بلوچی سمیت اردو، عربی، انگریزی، فارسی زبانوں میں بھی انکو عبور حاصل تھا۔ بیمار رہنے کے باوجود بھی وہ زبان کی خدمت کرنے میں ناامید نہ تھے۔ سید ظہور شاہ ہاشمی نے سید گنج جیسی لغات کو بناکر انہوں نے بلوچ قوم کو ایک بہت بڑا تحفہ دے دیا۔ یہ اسکی زندگی کی سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ وہ اگر مزید دس سال زندہ رہتے توبلوچی ادب کو دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ سید ہاشمی کی بلوچی ادب کے حوالے سےاب بھی بہت سی چیزیں رہ گئی ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سید ہاشمی کی بہت سی چیزیں عوام کے سامنے نہیں آئی ہیں اسکی مختلف پہلوﺅں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سید ظہور شاہ ہاشمی ایک ایسا کردار ہے بلوچ قوم اسکی نقش قدم پر چلے۔ انہوں نے کہاکہ مکران کے یونیورسٹیوں کو طالب علموں کو بلوچی زبان کے نامور شاعروں سید ظہور شاہ اور عطا شاد پر ایم فل کرانی چاہیے۔ افتتاحی تقریب کے اختتام پر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک و سینیٹر جان محمد بلیدی نے سید ظہورشاہ ہاشمی کی نئی کتابوں کی رونمائی کی جبکہ عبدالمجید سہرابی ہال میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سید ظہور شاہ ہاشمی کی تصاویر نمائش کی افتتاح اور شجر کاری مہم بنام سید ہاشمی کا بھی افتتاح کیا۔ بعد ازاں مہمانان نے کتابوں کے اسٹالوں کا بھی معائنہ کیا اور خریداری کی۔ افتتاحی تقریب میں نظامت کے فرائض خیرجان آرٹ اکیڈمی کے صدر یونس حسین نے ادا کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں