سردار اختر مینگل کیخلاف پوسٹیں کرنا، ان کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش قبائلی روایات کے منافی، جعلی اکاﺅنٹ کیخلاف سائبر کرائم سے رجوع کریں گے، اخترمینگل کی سوشل میڈیا ٹیم بھی محاسبہ کرے، نواب ثناءاللہ زہری

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ خان زہری نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک پر میرے نام سے منسوب ایک جعلی اکاﺅنٹ کے ذریعے قبائلی و سیاسی شخصیات کے خلاف نامناسب اور اشتعال انگیز مواد شیئر کیا جا رہا ہے، جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ سابق وزیر اعلی نواب ثناءاللہ زہری نے سوشل میڈیا پر قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماﺅں کے خلاف جاری مہم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سوشل میڈیا مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے بجائے منفی پروپیگنڈے اور فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے، جس کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر میرا صرف ایک ذاتی اکاﺅنٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر @NawabZehri1 کے نام سے موجود ہے، جسے میں خود چلاتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر پلیٹ فارمز پر میرا سوشل میڈیا ٹیم کام کررہی ہے، جو قابل اعتماد افراد پر مشتمل ہے اور صرف مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ نواب ثناءاللہ زہری نے کہا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو روز اول سے ہدایت دے رکھی ہے کہ ان کے نام سے منسوب یا کسی بھی ذاتی اکاﺅنٹ سے کسی سیاسی، سماجی یا قبائلی شخصیت کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانے والا مواد شیئر نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے قبائلی روایات، سماجی اقدار اور سیاسی شائستگی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جو قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سردار اختر مینگل کیخلاف پوسٹیں کرنا یا ان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش قبائلی روایات کے منافی ہے۔ نواب ثناءاللہ زہری کا کہنا تھا کہ سیاسی اور علاقائی اختلافات اپنی جگہ تاہم کسی کی کردار کشی یا عزت اچھالنا میری روایات کا حصہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا اگر کسی سے کوئی سیاسی و قبائلی اختلاف ہے تو میں کھل کر اور براہِ راست بیان کرتا ہوں، فیک اکاﺅنٹس یا سوشل میڈیا کا سہارا نہیں لیتا۔ انہوں نے بتایا کہ جعلی اکاﺅنٹ کے حوالے سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور معاملے کو سائبر کرائم ونگ کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے سردار اختر مینگل کی میڈیا ٹیم سے بھی اپیل کی کہ وہ اس جعلی اکاﺅنٹ کے خلاف تحقیقات کر کے سائبر کرائم حکام سے رجوع کریں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں