پاکستان مجھے بہت ہمیں عزیز ہے لیکن آئین کے بغیر نہیں چل سکتا، محمود اچکزئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی احترام کے ساتھ آپ سے پچھلے سیشن میں عرض کیا تھا کہ مجھے بات کرنے کا موقع دیا جائے۔ عمران خان بیمار ہیں اور ان کی ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے۔ میں نے آپ سے انتہائی نرم الفاظ میں کہا تھا کہ اگر آپ ہمیں موقع نہیں دیں گے تو ہم سیشن کا بائیکاٹ کریں گے۔ ہم بائیکاٹ پر تھے، پھر سرکاری بینچز کے لوگ آئے اور کہا کہ چین کا وفد آیا ہے، چین ہمارا دوست ہے، مہربانی کر کے اس (اجلاس) میں شامل ہو جائیں۔ ہم ان کے کہنے پر آ گئے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ آپ کو صرف نوٹس اور سوالات کی فکر پڑی ہوئی ہے؟ خدا کے لیے اس ملک پر رحم کریں۔ پاکستان ہمیں عزیز ہے، یہ پارلیمنٹ ہمیں عزیز ہے، لیکن افسوس ہوتا ہے۔ جو پارٹی یہ نعرہ لگاتی تھی کہ "ووٹ کو عزت دو”، اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ "ووٹ کو ذلت دو”۔ جو پارٹی روٹی، کپڑا اور مکان کی بات کرتی تھی اور یہ دعویٰ کرتی تھی کہ ہم نے اس ملک کو آئین دیا ہے، آج اسی آئین کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں۔ بغیر آئین کے یہ ملک کیسے چلے گا؟ اور اسے کون چلائے گا؟ خدا کے لیے اس ملک پر رحم کریں۔ میں بلوچستان کی صورتحال پر پہلے ہی بات کر چکا ہوں، آج خیبر پختونخوا اور لکی مروت میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ انتہائی دکھ اور تکلیف دہ ہے۔ لگتا ہے کہ ہم نے بس یہی ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ بسم اللہ پڑھیں اور فاتحہ خوانی کریں۔ ہم نے یہ پارلیمنٹ فاتحہ خوانی کے لیے نہیں بنائی۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اور شہباز بھائی! آپ خوش ہیں کہ ہماری بادشاہی قائم ہے۔ اس ملک پر رحم کریں۔ مہربانی کریں، ان سوالات اور نوٹس کو چھوڑیں۔ ہم بائیکاٹ پر تھے، لیکن شرافت کے دائرے میں رہ کر، ان کے اصرار پر ہم آ کر بیٹھ گئے، مگر ہمارے سوالات نہیں سنے گئے۔ پاکستان، اس کی پارلیمنٹ اور اس کا آئین سب سے مقدس اور ضروری ہے۔ میرے ساتھی کچھ امور پر بات کریں گے، اس کے بعد ہم بائیکاٹ کر کے نکل جائیں گے۔ ہم اس اجلاس میں مزید نہیں بیٹھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے