گرین بیلٹ کی کہانی اور اسکی محرومیاں سرفراز کی قلم کی زبانی

تحریر:سرفراز


نصیر آباد صوبہ بلوچستان کا سرسبز و شاداب ڈویژن اور ضلع و بہترین نہری نظام اور جغرافیائی لوکیشن کا حامل بلوچستان کا گرین بیلٹ جس کے بازو میں سندھ اور مغرب میں سابق ریاست ریاست قلات واقع ہے بلکہ دامن میں اپنے کئی ضلعے کو سنبھال کررکھاہوا ہے ۔جعفرآباد کے قابل لوگ ہوں یا جھل مگسی کے بعد صحبت پور کے محنتی یا پھر کچھی کے غیرت اور اوستہ محمد ہنر مند ان کو تھامے رکھا ہے نصیرآباد ڈویژن کی مٹھی نے ۔یہ ڈویژن 20لاکھ آبادی کے ساتھ بلوچستان کا بڑا تیسرا ڈویژن بلکہ پاکستان 23واں نمبر موجود ،جس کا کل رقبہ15129کلو میٹر ہے اور اس کا ہیڈکوارٹر ڈیرہ مراد جمالی ہے ۔
یہ خوبصورت شہریوں تو ماڈرن سٹی 1987کو سابق صدر ضیاءالحق کے دور میں بنا جب اسے جعفرآباد جھل مگسی سے الگ کر کے 1980میں ضلع کا درجہ دے دیا گیا اور پھر 2007میں اسے اپڈیٹ کر کے ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا مگر کئی ادوار میں نصیرآباد کے مختلف نام دیئے گئے ہیں جیسے ڈیرہ مراد جمالی،نصیرآباد (مقامی افراد کی زبان میں ٹیپل)اصل لفظ ٹیمپلTempalوغیرہ ۔
1891-92میں اس جگہ کا نام برطانوی افسر کیپٹن ایچ ایم ٹیمپل کے نام پر تھا جو کہ برٹش دور میں سبی کا سیاسی ایجنٹ تھا اور اس کے بعد اس نام بلوچستان کے قومی شاعر میر گل خان نصیر کے نام پر 1974ءمیں تبدیل کیا گیا ۔بعض قائدین بھی کہتے ہیں کہ نام نصیرآباد سردار نصیر جمالی کے نام پر رکھاگیا ہے اس کے ساتھ 1978ءمیں یہ نام تبدیل کر کے ممتاز اوربہادر لیڈر میر زرافان کے والد حاجی مراد جمالی کے نام پر رکھا گیا جو کہ یہ تینوں نام آج بھی اس پیارے شہر اور خطے کے ذینت ہے ۔
ماضی میں یہ مغل سطلنت پھر صغوی سلطنت اور آخر میں بلوچ حکمران سے برٹش رہنماﺅں نے حکومت کی 1530ءمیں نصیرالدین ہمایوں مغل سلطان نے براہ راست اس علاقے کو قبضے میں رکھا تھا اور اس کے بعد صغوی کے سلطنت کے ٹھوس شواہد نہیں ملتے البتہ 18ویں صدی میں بلوچ حکمران اس خطے پر براجمان رہ چکے ہیں۔
یہ خطہ گرم ترین علاقوں میں شامل ہے یہاں کے باشندوں کا ذرائع معاش زیادہ تر کاشت کاری کے ذریعے ہوتا ہے بلوچستان کا واحد ڈویژن جو گندم،چنا،چاول،کپاس پیداوار کرتا ہے اور وجہ سے اس خطے کا نام یعنی گرین بیلٹ سے پکارا جاتا ہے ۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پورے ملک میںصرف4.8فیصد جنگلات واقع ہے مگر اس سر سبز و شاداب گرین بیلٹ کے درخت محکمہ جنگلات کے ناک کے نیچے بیچاجارہا ہے جس کا ہمیں بے حد افسوس ہوتا ہے صوبائی حکومت کو اس چیز کا ایکشن لینا کا حق رکھتی ہے مگر یہاں بھی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔
یہاں رہنے والی بڑی قوموں میں جاموٹ،جمالی،رند،مگسی ،براہوئی،ڈومکی،لاشاری وغیر شامل ہیں ۔
آمریتوں کے دور میں اسے ضلع بنایا گیا اور پھر ضلع سے ڈویژن ،یہاں کے لوگ جمہوری پسند بھی ہیں،پیپلزپارٹی کا بلوچستان میں واحد گڑھ برسوں سے نصیرآباد ڈویژن رہا ہے مگر اسی پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں اس گرین بیلٹ کو2010/2012/2022کے سیلابوں میں بہ رحم لہروں کی نظر رہا ،
عوامی و سیاسی نقطہ نظر یہ تھا کہ نصیرآباد ڈویژن کو سیلاب کے نظر کرنا سیاسی چال چالن ہے اسی ڈویژن سے سی پیک کا گزر ہوتا ہے جو صحبت پور تا ضلع کشمور ،سندھ ہے جو کسی سردرد اور تکلیف دہ سفر سے کم نہیں ہے مگر دوسری جانب بد قسمتی سے آج تک اس ڈویژن و ضلع میں کوئی بائی پاس یا متبادل روڈ بھی نہیں یہ مہر بانیاں سیاستدانوں کی ذاتی دلچسپی کے باعث ہے،
یہاں کے خواندگی ریٹ32.59فیصد ہے یہاں کے لوگ غربت کی لکیر سے بھی زندگی گزارنے کے لئے مجبور تو نہیں مگر عادی بن چکے ہیں اس مہک بھری زمین میں اس ملک کو وزیراعظم،جج،چیف جسٹس،وزراءاور وزیر اعلیٰ تک دئیے مگر افسوس کے ساتھ اس کے محرومیوں کو کسی نے بھی ختم نہیں کیا ،پانی کا صاف پانی ہے نہ تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہ ہی نکاسی آب اور نہ ہی امن ،اس ڈویژن کا دور اقتدار یا تخت ہمیشہ سے کھوسہ،جمالی،مگسی انہی تین قوموں کے پاس رہا ہے ۔
موجودہ دور میں تین ایم این اے ،13ایم پی اے ایک سینیٹر اسی خطے کی نمائندگی کررہے ہیں جس میں پیپلزرٹی کے رہنمائ،میرصادق عمرانی،سردار غلام رسول عمرانی،شہناز صادق عمرانی،سردار فیصل جمالی،غزالہ گولہ ،اقلیتی رہنماءسنجے کمار شامل ہیں،دوسری جانب ن لیگ کے رہنماﺅں میں میر سلیم کھوسہ،محمد خان لہڑی،عاصم کرد گیلو،حادیہ نواز بہرانی،ڈاکٹر ربابہ بلیدی شامل ہیں ،جماعت اسلامی کے عبدالمجید بادینی اسی ڈویژن سے ہے ،سینیٹر راحت بی بی ،ایم این اے اختر بی بی ،ایم این ے خان محمد خان یہ تینوں ن لیگی رہنماﺅں میں شامل ہیں،باپ پارٹی کے نوابزادہ خالد خان مگسی ،نوابزادہ طارق مگسی بھی اسے خطے سے تعلق رکھتے ہیں ،
اتنی اقتدار کے ایوانوں میں طاقت رکھنے کے باوجود بھی گرین بیلٹ بہت سے محرومیوں کا شکار ہیں نہ کوئی مستقبل کامستقل حل نظر نہیں آتا،یوں تو گیس نصیرآباد کے آنگن سے نکلا مگر یہ قدرتی گیس جیسی نعمت سے بھی محروم ہے ،علاقے میں اوچ پاور پلانٹ ہونے کے باوجود ضلع میں 20گھنٹے لوڈشیڈنگ معمول بن چکا ہے اور اپنی ضروریات کے لئے بھی بجلی سے محروم ہیں۔
موجودہ دور میں نصیرآباد میں زمینوں پر قبضہ ،چوری و ڈکیتی،قتل عام معمول بن گیا ہے ،صحافیوں کے حقوق ان پر پرچہ کاٹنا ،سول سوسائٹی کے بنیادی حقوق اور لوکل باڈیز کے حقوق ،سرکاری ملازمین کے حقوق کچھ بھی اپنے درست سمت میں نہیں ہے،ڈاکٹر موجود مگر ادویات غائب رہتی ہے ،ہسپتالوں میں ادویات موجود ہوبھی تو من پسند لوگوں کو ملتی ہے یہ پھر چوری کرلیا جاتا ہے،ضلع میں کوئی ٹراما سینٹر بھی نہیں پورے نصیرآباد ڈویژن میں ماڈرن طرز کی یونیورسٹی نہیں خوش قسمتی سے ایک سب کیمپس لسبیلہ یونیورسٹی کا تو ہے مگر بد قسمتی سے پورے ڈویژن کے طلباءکے لئے صرف 3بسز موجود ہیں جو کہ طلباءکے ساتھ سرا سر ناانصافی ہے ،کوئی میڈیکل کالج اور نہ ہی کوئی ہسپتال موجود ہیں 20لاکھ آبادی رکھنے والی اس ڈویژن کے ساتھ سر عام مذاق ہے یا یہاں کے لوگوں کے تذلیل کی جارہی ہے۔
جمز ہسپتال منظور تو جعفرآباد ضلع کے لئے ہوا مگر بدقسمتی سے اسے بھی جیکب آباد سندھ شفٹ کیا گیا مگر یہ عوامی رائے ہیں ا س بارے میں ٹھوس شواہد نہیں ملی۔
اس خطے میں کئی صوفی بزرگوں کی مزاریں بھی موجود ہیں اس میں شہنشاہ ،ترک شاہ،چتل شاہ نورانی،مولوی عبدالقادر وغیر ہ شامل ہیں،ان کے سالانہ عرس ثقافتی طرز کے ذریعے عقیدت مندوں سے میلے کی صورت میں منایا جاتا ہے یہاں کے اقلیتی برادری بھی ہولی ہو یہ ضلع کچھی بھاگ میں سالانہ میلہ ملکر یہاں کے لوگوں کے ساتھ مناتے ہیں ،یہاں کے لوگوں کے لئے انسانیت پہلے مذہب بعد میں آتا ہے ۔یہاں کے لوگ مہمان نواز اور دیسی کھانوں جیسے دیسی مکھن،لسی،دیسی مرغی،ساگ ،جو کی روٹی سے ویلکم کرنا ان کی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔
ماہرین اور یہاں کے باشندوں کے مطابق پی بی13نصیرآباد ضلع سے نصیرآباد(1)کے لوگوں کے لئے وزیرآبپاشی میر صادق عمرانی اپنے حلقے کے لوگوں کے لئے کچھ کرینگے وجہ یہ ہے کہ ان کا یہ آخری الیکشن تھا اور ٹرینورہے جاتے جاتے اپنے فرزند میربلال صادق عمرانی کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں اور یہ بلکل نظر بھی آرہا ہے۔گاﺅں سکولوں کی چاروں اطراف مضبوط دیواریں ہوں یا پورے ضلع نصیرآباد میں بلیک ٹاپ روڈ ہو اور میڈیکل کالج کے لئے زمین اور گھمبٹ طرز پر ہسپتال بنانے پر باقاعدہ کام شروع کررکھا ہے ۔
جہاں تک پورے نصیرآباد ڈویژن کی بات ہے تو لوگوں میں پہلے کی نسبت شعور زیادہ ہے یہاں کے طلباءکے کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں (CSS)جیسے مقابلہ وار امتحان ہو یا پھر (MDCAT)جیسے سخت ٹیسٹ ہو اس گرین بیلٹ کے طلباءنوجوان بہت ہی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں یہاں کے طلباءکا رجحان زیادہ ترڈاکٹر ،وکیل یا پھر سول آفیسرز بننا ہے ۔
اس سرگرمی کو دیکھ کر آنے والے وقتوں میں اس خطے گرین بیلٹ کے تقدیر بدل سکتی ہے یہاں کے طلباءنوجوان مخلص اور کافی حد تک محنتی بھی ہے ،مستقبل میں موروثی سیاست کرنے والوں کی تکالیف بڑھیں گی اور ان کا اقتدار کے ایوانوں میںمشکل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ان کے حالیہ الیکشن میں جماعت اسلامی کے رکن انجینئر عبدالمجید بادینی کا تخت روجھان سے تخت چین کر وزیر بننا یہ پی ٹی آئی کا عام سا ورکر عارف رند کا قومی اسمبلی کے لئے الیکشن لڑنا اور بڑے بڑے سیاستدانوں کو ٹف ٹائم دینا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں