کوئٹہ 31 مئی 1935ء کا ہولناک زلزلہ

تحریر و تحقیق: فرخ شہزاد ملک
تقریباً91 برس قبل بلوچستان کے دارالحکومت، کوئٹہ میں تاریخ کا خوف ناک زلزلہ آیا، جس میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔ 30 اور 31 مئی 1935ءکی درمیانی شب آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کا دورانیہ 30سیکنڈ اور زیر زمین گہرائی فقط30 کلومیٹر تھی۔ اس زلزلے میں مجموعی طور پر 50ہزار افراد ابدی نیند سو گئے۔
بتایا جاتا ہے کہ ا±س زمانے میں15 مئی کے بعد موسم اس قدر گرم ہو جاتا تھا کہ لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں سے باہر یا گھروں میں بھی کھلے حصّوں میں سویا کرتی تھی، لیکن اس سال نہ صرف موسم سرما بہت سرد رہا، بلکہ مئی میں سردی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ گھروں اور کمروں کے اندر ہی سوتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ زلزلے میں گھروں کے منہدم ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے۔
اگرچہ زلزلے کی شدت دنیا کے بہت سے تباہ کن زلزلوں کی نسبت زیادہ نہیں تھی، لیکن تباہی اس لیے زیادہ ہوئی کہ اس کا مرکز کوئٹہ شہر سے چند میل کے فاصلے پر تھا۔ایک حیرت انگیز بات یہ بھی ہوئی کہ زلزلے سے کوئٹہ شہر تو پورا تباہ ہو گیا،لیکن کوئٹہ کینٹ محفوظ رہا اور وہاں محض چند مکانات میں دراڑیں پڑیں۔ جب زلزلہ آیا تو کوئٹہ کینٹ میں بارہ ہزار کے قریب تربیت یافتہ فوج موجود تھی، جس کے پاس اس وقت کا جدید اسلحہ، بارود اور فوجی اعتبار سے کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کئی ہفتوں کا راشن اور ادویہ وغیرہ بھی وجود تھیں۔
کوئٹہ گیریژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ، جنرل کارسلیک تھے، جن کے احکامات پر چند سیکنڈز میں کینٹ میں ایمرجنسی سائرن بجائے گئے اور زلزلے کے صرف بائیس منٹ بعد جنرل کارسلیک کئی فوجی گاڑیوں کے ساتھ جناح روڈ پر کینٹ کو شہر سے ملانے والے پل پر آگئے۔ انہوں نے وہاں موجود افسران اور جوانوں کو نزدیکی علاقوں میں فوراً امدادی کارروائیوں کی ہدایت دی۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ کوئٹہ کی کثیر آبادی زلزے سے شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔ زلزلے سے کوئٹہ کے تقریباً ساٹھ فیصد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور جو زندہ تھے، ان میں سے بھی اکثر زخمی تھے۔
پولیس اور انتظامی شعبے بالکل ختم ہوچکے تھے۔ سمنگلی رائل ایئربیس پر اس وقت 29 طیارے اور 331 برطانوی افسر موجود تھے۔ رن وے اور ہینگرز میں کھڑے طیارے تباہ ہوگئے، جبکہ کئی افسر ہلاک یا زخمی ہوئے۔ وہاں موجود ٹیلی گراف کی صرف تین مشینز محفوظ رہیں۔ میجر جنرل کارسلیک نے اسٹاف کالج کے زیر تربیت افسران کی سربراہی میں پولیس کے عارضی دستے تشکیل دیے۔ دہلی اور بمبئی میں متعلقہ حکام سے رابطے کی کوشش کی۔
زلزلے کے تین گھنٹے بعد یہاں سے جنرل کارسلیک نے پہلا پیغام دہلی بھیجا۔ یکم جون کی صبح آٹھ بجے تک سرکاری طور پر بھیجے جانے والے پیغامات کی تعداد چار سو تک پہنچ چکی تھی، لیکن ان پیغامات میں سے پہلا پیغام تفصیلی اور اہم تھا، جس کے فوراً بعد جنرل کارسلیک نے کوئٹہ میں مارشل لا نافذ کردیا اور کوئٹہ کی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔ یہ اقدام اس لیے کیا گیا کہ تباہ شدہ شہر میں امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ ہو اور تباہ شدہ مکانات میں لوٹ مار نہ کی جاسکے۔
انہوں نے کوئٹہ کے سابق میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر سر ہنرے ہالینڈ کو زخمیوں کی فوری طبی امداد کی ذمے داری سونپی۔ اگرچہ وہ بہت ضعیف ہوچکے تھے، لیکن انہوں نے یہ ذمے داری احسن انداز میں انجام دی۔ ڈاکٹر ہنری نے جائزہ لیا کہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، جب کہ ان کے علاج کے لیے اسپتالوں اور عملے کی تعداد بہت کم ہے۔
کوئٹہ اور گرد ونواح کے تمام اسپتال اور ڈسپنسریز تباہ ہوچکی تھیں۔صرف کوئٹہ کینٹ میں تین بڑے اسپتال تھے، جن میں برٹش ملٹری اسپتال، انڈین ملٹری اسپتال اور کنٹونمنٹ اسپتال شامل تھے۔ انہوں نے کوئٹہ اسٹاف کالج کے زیر تربیت ان48 نوجوان افسران کا انتخاب کیا، جو فرسٹ ایڈ کے اصولوں اور طریقہ کار سے واقف تھے اور پھر ان تین اسپتالوں کے ساتھ شہر میں کئی مقامات پر فرسٹ ایڈ سینٹرز قائم کیے گئے، جہاں زخمیوں کی مرہم پٹی کی جاتی رہی۔
زلزلے سے کوئٹہ سے مچھ تک ریلوے لائنز اور ریلوے اسٹیشنز کی عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔ ان تمام ریلوے لائنز کو48گھنٹوں کے اندر اندر بحال کیا گیا، جس کے بعد پہلی ٹرین زخمیوں کو لے کر روانہ ہوئی۔ البتہ زلزلے کے دوسرے دن پہلا طیارہ زخمیوں کو لے کر روانہ ہوا اور پھر اہم افراد ہوائی جہازوں سے بھی روانہ کیے جا تے رہے۔ اس موقعے پر ریلوے کے ملازمین نے فرض شناسی اور انسانی خدمت کی مثال قائم کی۔ جو ملازمین زلزلے میں بچ گئے تھے، انہوں نے فوج کے ساتھ مل کر کام کیا اور سب سے پہلے ریلوے ٹریفک بحال کیا اور پھر ہنگامی بنیادوں پر کئی کئی دن بغیر آرام کے کام کرتے رہے۔
1935ءمیں کوئٹہ کے ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ، کیپٹن ایل اے جی کی اعلیٰ حکام کو ارسال کردہ رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی ملبے کے ڈھیروں سے تلاش اور لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا کام انتہائی مشکل تھا۔ یکم جون1935ءکی صبح سے لاشیں اٹھانے کا کام شروع کیا گیا اور3 جون تک لگ بھگ پانچ ہزار لاشیں اٹھائی گئیں، جنہیں گاڑیوں کے ذریعے شہر سے منتقل کیا گیا۔ مسلمان میتوں کی شہر کے جنوب میں واقعے قبرستانوں میں تدفین ہوئی، جبکہ ہندو شہریوں کی میتوں کے کریا کرم کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں عارضی شمشان گھاٹ بنائے گئے اور میتوں کو جلانے کے لیے لکڑیوں وغیرہ کا ہنگامی بنیادوں پر بندوبست کیا گیا۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی یادگاریں بھی تعمیر کی گئیں، جن میں سے بعض اب بھی موجود ہیں۔ہلاک ہونے والے مسیحیوں کی یاد میں ایک یادگار حالی روڈ پر ہے، جس پر ہلاک شدگان کے نام کندہ ہیں۔ اس زلزلے میں ریلوے کے 154 ملازمین اور ان کے 489 رشتے دار ہلاک، جبکہ 98 ملازمین اور181 رشتے دار زخمی ہوئے تھے۔ ریلوے کے جو ملازمین ہلاک ہوئے تھے، ان کے نام کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کے داخلی راستے پر کندہ ہیں۔ زلزلے کے بعد کوئٹہ شہر کا ملبہ صاف کرنے میں دو سال کا عرصہ لگا، جو آغاز میں حکومت نے اور بعدازاں مارچ1936ءسے عام افراد نے انجام دیا، جنہیں حکومت نے ملبہ اٹھانے کے اخراجات کا 80 فیصد ادا کیا۔
تعمیر نو کے عمل کی نگرانی”کوئٹہ تعمیرِ نو کمیٹی“ کے پاس تھی، جس میں فوجی اور سول حکام شامل تھے۔ مقامی حکومتی عہدے داروں نے فوج اور محکمہ صحت کے حکام کی مشاورت سے نئے شہر کی ترتیب کے لیے منصوبے بنائے اور پھر انہیں مرکزی حکومت کو پیش کیا گیا۔ اس منصوبے میں وسیع گلیوں، پانی کی فراہمی اور نکاسی کے بہتر اننظامات وغیرہ شامل تھے۔
نئے منصوبے میں اچھی شہری منصوبہ بندی سے متعلق عصری ضروریات کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا گیا کہ چوڑی گلیوں میں مزید زلزلوں کی صورت میں فرار اور رسائی کے راستے فراہم کیے گئے ہوں۔ یکم فروری1937ءکو کوئٹہ کے آخری وارڈز کو دوبارہ قبضے کے لیے کھول دیا گیا اور ایک نیا مستقل بلڈنگ کوڈ نافذ ہوا۔
یہ پہلا موقع تھا، جب کسی میونسپلٹی میں لازمی بلڈنگ کوڈ نافذ کیا گیا تھا۔ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، بلوچستان کی رپورٹ ”ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ پلان ڈسٹرکٹ کوئٹہ، بلوچستان“ کے مطابق، برطانوی انجینئر، مسٹر ہنری اوڈن ٹیلر کو شہر کی تعمیرِ نو کا کام سونپا گیا۔ اوڈن ٹیلر نے اینٹوں کے کام کے ذریعے عمودی دھاتی سلاخوں کا استعمال کرتے ہوئے عمارت کی تعمیر کے نئے معیارات متعارف کروائے اور یہ تیکنیک کافی کامیاب رہی۔
بعد ازاں، 1941ءمیں بھی کوئٹہ شہر میں ایک بڑا زلزلہ آیا، لیکن اس طرح تعمیر ہونے والی عمارتیں کھڑی رہیں۔ زلزلے کے خطرے کے پیش نظر کوئٹہ کے لیے سات اقسام کے مکانات اور عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی اور ان ساتوں کے لیے نمونے کے طور پر کچھ مکانات اور عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ یہ سات اقسام کے مکانات اور عمارتیں زلزلے کی زیادہ شدت براشت کرسکتی تھیں۔
انگریزوں نے سب سے پہلے کوئٹہ کے جنوب مشرق میں ٹین کے کئی مکانات بنائے اور اسی وجہ سے کاسی روڈ کے اس علاقے کو ”ٹین ٹاﺅن“ کہا گیا، جو آج بھی موجود ہے۔ ان مکانات میں لکڑی اور لوہے کے اینگل آئرن سے اسٹرکچر بنا کر دیواریں اور چھتیں ٹین سے بنائی گئیں اور اندر کی طرف موٹا گتا، یعنی ہارڈ بورڈ لگایا گیا۔ یہ سیون ٹائپ یعنی سات اقسام میں سے مکانات کی تعمیر کی پہلی قسم تھی۔ اسی طرح کے کچھ مکانات ریلوے کالونی میں ریلوے ملازمین کے لیے بھی بنائے گئے، جو آج بھی موجود ہیں۔
ریلوے لائن کے درمیان جو پندرہ، سولہ فٹ لمبے، تقریباً ایک فٹ چوڑے اور آٹھ سے دس انچ موٹے لکڑی کے سیلپر لگائے جاتے ہیں، انہیں دو انچ چوڑی اور ایک انچ موٹی لوہے کی پٹیوں سے جوڑ کر لکڑی کے دو کمروں، صحن، اسٹور اور باتھ روم پر مشتمل مکانات تعمیر کیے گئے، جن کے لیے سیون ٹائپ کی اصطلاح استعمال ہوئی۔
زلزلے کے بعد شہر میں 90 فیصد مکانات سیون ٹائپ ہی بنائے گئے تھے۔ ان مکانات کی تعمیر یوں تھی کہ سطحِ زمین سے ایک سے دو فٹ نیچے بنیاد بنائی گئی، جو کہ دو سے ڈھائی فٹ گہری اور ایک سے ڈیڑھ فٹ چوڑی تھی۔ اس بنیاد کی تعمیر میں چونے کے پتھر کے چھوٹے ٹکڑے سیمنٹ کی مدد سے یکجا کیے گئے۔ بنیاد میں 4 سے 5 فٹ کے فاصلے سے لکڑی کے شہتیر لمبائی کے رخ زمین سے آسمان کی جانب کھڑے کردیئے گئے۔
بنیاد کے اوپر ریت، بجری اور سیمنٹ کی ایک ہلکی تہہ کے بعد اس کے اوپر 9 انچ موٹی، یعنی تین اینٹ دیوار لکڑی کے کھڑے شہتیروں کے درمیان چن دی جاتی۔ شہتیروں کو دیواروں میں مضبوطی کے ساتھ کھڑا رکھنے کے لیے لکڑی کے شہتیر کے ساتھ لوہے کی موٹی پٹیوں کا ایک سرا ٹھونک کر دوسرے سرے کو دیوار میں اینٹوں کے درمیان چن دیا جاتا۔ یہ دیواریں بنیاد کے اوپر چار سے پانچ فِٹ تک اونچی ہوتی تھیں۔ اس کے بعد دیواروں پر ریت، بجری اور سیمنٹ کے آمیزے کی ایک تہہ بچھادی جاتی۔
بنیاد سے آئے ہوئے کھڑے شہتیروں کا وہ حصہ، جو دیوار سے اوپر کی جانب ہوتا، اس ڈھانچے یا کھانچے پر باہر کی جانب ٹین کی چادریں کیلوں سے ٹھونکی جاتیں اور اندر کی طرف لکڑی کی آدھی انچ موٹی اور چھے انچ چوڑی پٹیاں کیلوں سے ٹھونک دی جاتیں اور پھر اندر کی طرف سے ان پر مٹی کے گارے کا پلستر کردیا جاتا، جبکہ بعض مکانات میں باہر کی جانب ٹین کی چادروں کی بجائے لوہے کی درمیانے سوراخ کی جالیاں ٹھونک کر اسے سیمنٹ ملی درمیانے درجے کی موٹی بجری سے بھر دیا جاتا، جو خشک ہونے پر پختہ ہوجاتیں۔
ان مکانات کی بلندی بارہ فٹ سے زیادہ نہیں تھی اور سب کی چھتیں ٹین کی موٹی چادروں کی تھیں، جو لکڑی کے شہتیروں پر نٹ بولٹ کی مدد سے کسی ہوئی تھیں۔ شہر میں زلزلے کے خطرات کے پیشِ نظر یہ تعمیراتی اصول 60ءاور70ءکی دہائی تک اپنائے جاتے رہے، لیکن بعد میں انہیں آہستہ آہستہ نظر انداز کردیا گیا، جس کے باعث آج کوئٹہ کنکریٹ کے شہر میں تبدیل ہوچکا ہے۔
وہ شہر، جو زلزلے کے بعد تقریباً 50 ہزار افراد کی آبادی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، آج 24 لاکھ سے زائد آبادی کا بوجھ برداشت کررہا ہے۔ بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئٹہ میں کثیر منزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ ان تعمیرات میں اگرچہ معیار کا کسی حد تک خیال رکھا جاتا ہے، لیکن پھر بھی تعمیرات کا عمل ماضی میں آنے والے زلزلوں کے حوالے سے احتیاط کا متقاضی ہے، کیوں کہ کوئٹہ میں زلزلوں کا تاریخی ریکارڈ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ علاقہ انتہائی فعال، زلزلہ زدہ زون میں ہے اور اس وجہ سے درمیانے درجے سے لے کر بڑا زلزلہ کسی بھی وقت آسکتا ہے۔
بلوچستان بلڈنگ کنٹرول اینڈ ٹاﺅن پلاننگ رولز 2021ءکے مطابق کوئٹہ میں رہائشی عمارتوں کی زیادہ سے زیادہ اونچائی50 فٹ اور کمرشل عمارتوں کی60 فٹ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، لیکن شہر میں آج بھی اکثر عمارتیں ان قوانین کی خلاف ورزی کرتی نظر آتی ہیں۔ اس تمام صورت حال کے ساتھ، ایک تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ شہر کے نواحی علاقوں میں آبادی کا ایک بڑا حصہ کچی آبادیوں پر مشتمل ہے، جو کسی زلزلے کی صورت میں وسیع پیمانے پر جانی ومالی نقصان کا شکار ہوسکتی ہیں۔
ماہر ارضیات اور بلوچستان یونیورسٹی کے سابق ڈین فیکلٹی آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر دین محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ ”شہر میں کسی بھی قسم کی تعمیر سے پہلے اگر زمین کی ساخت کا مکمل جائزہ لے لیا جائے، تو ناگہانی آفت کی صورت میں نقصان کی شدت کم کی جاسکتی ہے۔
تعمیرات میں معیار کے پہلو پر کبھی بھی سمجھوتا نہ کیا جائے اور عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے لیے ضرور کوئی راستہ رکھا جانا چاہیے۔ نیز، ٹاﺅن پلاننگ ایسی ہونی چاہیے، جو کسی ہنگامی صورت حال کے وقت لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معاونت فراہم کرے۔ لہٰذا انسانی عقل یہ کہتی ہے کہ تعمیرات ایسی ہوں، جو زلزلے برداشت کرنے کے ساتھ بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیتوں کی حامل ہوں۔“
31 مئی1935ءکو کوئٹہ میں پیش آنے والے سانحے کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور دعا ہے کہ اس طرح کی آفت دوبارہ کبھی نہ آئے۔ اس ضمن میں شہر اور اس کے گردونواح میں بلڈنگ کوڈز کا نفاذ سختی سے کرنا ہوگا۔ قدرتی آفات کے نقصانات سے بچاﺅ کی تیاری، خطرات میں کمی کا سب سے اہم عنصر ہے، کیوں کہ ہم زلزلوں کی پیش گوئی کرسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں آنے سے روک سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے