میر عطاءالرحمن مینگل ایک داستان استقامت
تحریر: ندیم الرحمن محمد شہی
تاریخ کبھی اچانک جنم نہیں لیتی۔ قوموں کی تقدیر میں رقم ہونے والے بڑے کردار کسی ایک دن، ایک واقعے یا ایک معرکے کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے صدیوں کی مزاحمت اور ایک ایسے فکری تسلسل کی داستان ہوتی ہے جو وقت کے ہر جبر، ہر فریب اور ہر آزمائش سے گزر کر اپنے وجود کو ثابت کرتا ہے۔
بلوچستان کی سرزمین بھی ایسی ہی داستانوں سے بھری ہوئی ہے یہاں پہاڑ صرف پتھروں کے ڈھیر نہیں، یہاں وادیاں صرف جغرافیہ نہیں بلکہ تاریخ کے زندہ اوراق ہیں۔
ہر بڑا واقعہ اپنے پیچھے کئی نسلوں کی قربانیوں، کئی زمانوں کی جدوجہد اور بے شمار گمنام کرداروں کا قرض لیے کھڑا ہوتا ہے۔ بعض اوقات صرف ایک انسان کی موت نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک پورے عہد، ایک فکر اور ایک مزاحمتی روایت کی تجدید بن جاتی ہے۔
بعض لوگ خاندانوں میں پیدا ہوتے ہیں، بعض نظریات میں جنم لیتے ہیں۔
میر عطاءالرحمن مینگل کے نہ صرف خاندان نے بلکہ ان کے آباﺅ اجداد نے ہر دور میں وقت کے جابروں سے تصادم کیا، مگر اپنی سرزمین، اپنی روایات اور اپنے عقیدے کا سودا نہیں کیا، یہاں تاریخ کے اوراق پلٹنے کا موضوع اور وقت نہیں لیکن وہ ایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ تھے جس نے ہر دور میں اقتدار سے زیادہ نظریے کو، مفاد سے زیادہ وفاداری کو اور زندگی سے زیادہ عزت نفس کو اہمیت دی یہی وجہ ہے کہ جب قیام پاکستان کا مرحلہ آیا تو ان کے دادا حاجی میر نیک محمد مینگل نے اس دور میں پاکستان کے ساتھ فکری و نظریاتی وابستگی کا علم بلند کیا جب بہت سے لوگ مستقبل کے دھندلکوں میں راستہ تلاش کر رہے تھے تو جھالاوان کے قبائلی معتبرین اور سرداروں کو پاکستان کے ساتھ الحاق پر آمادہ کرنے والوں میں حاجی میر نیک محمد مینگل پیش پیش تھے یہ محض سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری انتخاب تھا جس کی بنیاد اسلامی شناخت، اجتماعی مستقبل اور تاریخی شعور پر رکھی گئی تھی میرعطاءالرحمن مینگل بلوچستان کے بزرگ سیاستدان سابق وزیراعلی بلوچستان میر محمد نصیر خان مینگل کے بڑے صاحبزادے تھے، وہ بلوچستان میں عالمی شیطانی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکنے والے مرد آہن میر شفیق الرحمن مینگل کے بڑے بھائی تھے۔ میر محمد نصیر خان مینگل کے چھوٹے صاحبزادے میر حمود الرحمن مینگل بھی ان گمنام کرداروں میں سے ہے کہ جو نظریہ پاکستان سے شعوری طور پر وابستگی رکھتے ہے۔
میر شفیق الرحمن مینگل اور میر عطاءالرحمن مینگل ایک ایسے زمانے میں میدان میں اترے جب بلوچستان میں بندوق صرف جسموں کو نہیں بلکہ اذہان کو بھی یرغمال بنا چکی تھی، جب خوف ایک نظریہ بن چکا تھا، خاموشی دانشمندی سمجھی جاتی تھی اور بد قسمتی سے آج ایک بار پھر انھی حالات سے بلوچستان دوچار ہوچکا ہے۔
سن 2008 سے 2012 تک کا دور بلوچستان کی جدید تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بھارت کے کرائے کے قاتل اور ان کے غلام ابن غلام چند نام نہاد سردار آج کے موجودہ بلوچستان کے حالات سے کئی گناہ زیادہ متحرک تھے، ہر محاذ پر انکی دسترس تھی جنہوں نے خوف اور بادشاہانہ طرز سے اپنی مستقل حکومت قائم کر رکھی تھی۔ سچ بولنا جرم تھا، اختلافِ رائے خطرہ تھا اور پاکستان کے حق میں تو آواز بلند کرنا موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔
ایسے ماحول میں اکثر لوگ خاموشی کو حکمت سمجھ لیتے ہیں۔
مگر کچھ لوگ حالات کے تابع نہیں ہوتے وہ حالات کا رخ موڑنے کیلئے پیدا ہوتے ہیں میر عطاءالرحمن اور میر شفیق الرحمن انہی کرداروں میں سے ہیں۔
وہ اس وقت عالمی طاقتوں کے آلہ کاروں کو للکار رہے تھے جب بہت سے لوگ سرگوشیوں میں بات کرتے گھبراتے تھے۔
میر عطاءالرحمن کی جدوجہد محض سیاسی نہ تھی۔ وہ ایک تہذیبی، فکری اور نظریاتی معرکہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر بلوچ براہوئی اپنی اسلامی شناخت، اپنی قبائلی روایات اور اپنی تاریخی وابستگیوں سے محروم ہوگیا تو محض زمین باقی رہ جائے گی، قوم باقی نہیں رہے گی۔
یہی وجہ تھی کہ ایک طرف وہ فکری محاذ پر سرگرم تھے تو دوسری طرف میدان عمل میں بھی صف اول میں نظر آتے تھے۔
ان برسوں میں ان کے قافلے نے تین سو سے زائد ساتھیوں کے جنازے اٹھائے۔ نوجوانوں کی لاشیں اٹھیں، رفقاءکی میتیں آئیں، کوئٹہ میں میر شفیق الرحمن مینگل کی رہائش گاہ پر پہلا خودکش حملہ ہوا، ساتھیوں پر کئی حملے ہوئے، مگر حیرت انگیز طور پر ان کے لہجے میں مایوسی نہیں آئی۔
شکست کا سب سے بڑا اعلان ہتھیار ڈالنا نہیں، امید چھوڑ دینا ہوتا ہے۔
اور میر عطاءالرحمن مینگل نے کبھی امید نہیں چھوڑی۔
اور پھر جب گولی ناکام ہوئی تو الزامات نے حملہ کیا تاریخ کا ایک اصول ہے۔
جب کوئی تحریک میدان میں شکست نہ کھائے تو اس پر بہتانوں کا حملہ کیا جاتا ہے، ایسا ہی ان کے ساتھ بھی ہوا۔
جب دشمن نے دیکھا کہ قتل، دھمکی، خودکش حملے اور مسلح کارروائیاں اس قافلے کو راستے سے ہٹانے میں ناکام ہو رہی ہیں تو ایک نیا محاذ کھول دیا گیا۔ الزامات کا محاذ، کردار کشی کا محاذ، پروپیگنڈے کا محاذ۔
مختلف قوم پرست سیاسی حلقے، مفاداتی عناصر، نام نہاد دانشور، زرخرید صحافت ابلاغی ذرائع اور تعلیمی اداروں میں متحرک مختلف طلبہ تنظیمی ڈھانچے ایک مخصوص بیانیے کے گرد جمع ہونے لگے اور جھوٹے بیانیے تراشے گئے، حق کی تحریک کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی جھوٹ کو اس قدر دہرایا گیا کہ اسے سچ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔
تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ جو لوگ میدان میں شکست نہیں دے سکتے، وہ کردار پر حملہ کرتے ہیں،
وہ شاید نہیں جانتے کہ وہ تحریکیں جو خون سے سینچی جائیں انھیں افواہوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا پھونکوں سے چراغ بجھایا نہیں جاسکتے۔
بعض اوقات دشمن کی گولی اتنا نقصان نہیں پہنچاتی جتنا اپنوں کی غلط فہمیاں اور غلط فیصلے پہنچا دیتی ہیں لیکن ان تمام حالات اور اجتماعیت سے فاصلے پیدا ہونے کے باوجود میر عطاءالرحمن مینگل اپنی فکر، اپنے نظریے اور اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔
وہ جانتے تھے کہ حق کی راہ پر چلنے والوں کا اصل امتحان میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ تنہائی میں ہوتا ہے،
اور پھر بالآخر 22 جون کی شام وڈھ سے 100 کلو میٹر کے فاصلے پر آڑنجی کے مقام پر جب پہاڑ خاموش تھے۔
مگر تاریخ خاموش نہ تھی۔
اپنے مرکز اور گلدستے سے دور سنگلاخ پہاڑی سلسلوں میں ایک ایسا منظر رقم ہونے جا رہا تھا جسے آنے والے برس صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک علامت کے طور پر یاد رکھیں گے۔
مسلح گروپ نے عددی برتری کے ساتھ حملہ کیا وہ چاہتے تو وہاں سے باحفاظت نکل سکتے تھے اس دوران انکا فرزند میر مطیع الرحمن مینگل بھی ہمراہ تھے، اپنے ایک دیرینہ محافظ ساتھی اور زخمی بیٹے کو گھیرے سے نکال کر دوبارہ میدان میں کود پڑے اور مردانہ وار لڑتے رہے، دشمن اپنے کئی ساتھیوں کو جہنم واصل ہوتے دیکھ کر حواس باختہ ہوا تو چاروں طرف سے گھیرا تنگ کیا گیا، ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا۔
شاید انہیں یقین تھا کہ زندگی ہر انسان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے۔
مگر وہ یہ بھول گئے تھے کہ کچھ لوگ زندگی سے زیادہ اپنے نظریے اور تاریخ سے محبت کرتے ہیں۔
جواب میں کوئی رعایت نہ تھی، کوئی سمجھوتہ نہ تھا، صرف ایک گرجدار للکار تھی۔
وہ للکار جس نے دشمن کو بتا دیا کہ بعض لوگوں کو قتل تو کیا جاسکتا ہے، مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔
پھر گولیاں چلیں، پھر بارود بولا، پھر بندوق کی آخری گولی اور اپنے جسم کے آخری قطرہ خون تک لڑتا رہا اور یوں بلوچستان کے پہاڑوں نے ایک اور داستان اپنے سینے میں محفوظ کر لی۔ نور محمد عرف نورا مینگل کی اور میر علی محمد مینگل کی روایت نے مینگل کے سرخیل جرنیل صفت قائد میر عطاءالرحمن مینگل کی صورت ایک نئی تاریخ رقم کی۔ میر عطا الرحمن مینگل کی زندگی کو اگر ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے زندگی بھر وہی کہا جو مانتے تھے اور آخری سانس تک وہی کیا جو کہتے تھے، یہی کردار کی سب سے بڑی سچائی ہے۔
وہ بجھتے بجھتے ہزار چراغ روشن کرگیا۔
ان کے بعد بھی قافلے باقی ہیں آج انکا فرزند میر مطیع الرحمن مینگل ان کے مشن پر اپنے قائد میر شفیق الرحمن کی قیادت میں میدان عمل میں سرگرم ہے۔
پرچم باقی ہے، نعرہ باقی ہے، فکر باقی ہے اور وہ عہد بھی باقی ہے جو تاریخ کے ہر دور میں اہلِ حق نے اپنے خون سے لکھا ہے۔
آج جب بلوچستان ایک بار پھر فکری کشمکش، سیاسی انتشار اور مختلف بیانیوں کی جنگ کے بیچ کھڑا ہے تو میر عطاءالرحمن مینگل کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قوموں کی بقا صرف طاقت سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔
وقت گزر جائے گا، واقعات پر گرد جم جائے گی۔
مگر آڑنجی کی شام، وہ للکار، وہ استقامت تاریخ کے حافظے سے کبھی محو نہیں ہوگی۔
مجھے ذاتی طور پر میر عطاءالرحمن مینگل سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوسکا لیکن ان کی جدوجہد ان کی استقامت ان کی جرات اور انکی قربانیوں کا مطالعہ کرتے ہوئے بارہا یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے ہم برسوں سے ان کے قافلے کا حصہ رہے ہوں، کچھ شخصیات اپنی موجودگی سے نہیں اپنے کردار سے پہچانی جاتی ہیں۔
میر عطاءانہی میں سے ایک عظیم شخصیت کا نام تھے۔


