بات صرف مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کی نہیں، ہماری بلوچی ریاست قلات کے نام کو ختم کرنے کی کوشش ہے، خان میر احمد خان سے 48ءکے معاہدے کو نہیں مانتے تو پھر یہ مسٹر جناح کی سالگرہ وغیرہ بھی نہیں منائیں، نواب اسلم رئیسانی
کوئٹہ (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے نئی انتظامی حد بندیوں کے فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ بات صرف مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کی نہیں بلکہ یہاں تو انہوں نے مذموم کوشش کی ہے کہ ہماری بلوچی تشخص ہمارے بلوچی ریاست قلات کے نام کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو معاہدہ خان میر احمد خان یار مرحوم اور مسٹر جناح کے درمیان ہوا تھا Instrument Accession of Kalat اس میں تو بالکل واضح الفاظوں میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا جو بھی کانسٹی ٹیوشنل ارینجمنٹ ہوگا ہم اس کے پابند نہیں ہوں گے ، کوئی بھی زمین اگر ریاست پاکستان حاصل کرنا چاہے گا ، حکومت اور ریاست قلات کے زعمائ، سردار صاحبان یا عوام کی مرضی کے بغیر اسے حاصل نہیں کرسکیں گے یہ تو بالکل مسٹر جناح کا اور خان صاحب مرحوم کے درمیان جو معاہدہ ہے کیونکہ یہ ہماری نظر میں باقاعدہ ایک ڈاکومنٹ ہے معاہدہ ہے اگر پاکستان کی نظر میں وہ اہم نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پھر مسٹر جناح کی سالگرہ وغیرہ نہیں منائیں اس بیچارے کو ایسی ہی چھوڑ دیں ۔ اس فیصلے کو ہم قطعاً قبول نہیں کریں گے، ہم جانتے ہیں کہ عدالتیں بھی سرکار کی ہیں حکومت بھی ہے مگر ہم اس فیصلے کو قطعا قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مستونگ کو قلات ڈویژن سے الگ کرکے کوئٹہ ڈویژن کا حصہ بنانے کی غیر مشاورتی اور عوامی خواہشات کے بر عکس حکومتی فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، ہم ضلع مستونگ کو دوبارہ قلات ڈویژن میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن پر امن اور آئینی جدوجہد کریں گے۔


