کڈ کوچہ میں بیس پشتون شہید ہوئے، کیا آپ کے بھائی گورنر نے استعفیٰ دیا تھا؟ سرفراز بگٹی کا محمود اچکزئی سے سوال

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دشمن کی منظم سازش ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جائے اور پھر اس کا الزام ریاست پر عائد کرکے بلوچستان میں بداعتمادی اور انتشار کو فروغ دیا جائے، تاہم حکومت اور عوام کی مشترکہ قوت ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کا راستہ امن، استحکام اور ترقی کا راستہ ہے اور ہم کسی بھی دباو¿ یا دہشت گردی کے ذریعے اس راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے وہ پیر کو کوئٹہ میں بلوچستان کے عظیم سیاسی رہنما اور شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ تعزیتی ریفرنس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی، صوبائی وزراء بخت محمد کاکڑ، میر ضیاء اللہ لانگو، میر عاصم کرد گیلو، میر سلیم خان کھوسہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں، رئیسانی قبائل کے عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں شہید میر سراج خان رئیسانی کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور لنگر کا اہتمام بھی کیا گیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر آج میرے استعفے سے بلوچستان کے حالات بہتر ہوتے ہیں، اگر بشیر زیب اور ڈاکٹر اللہ نذر یہ اعلان کر دیں کہ سرفراز بگٹی کے استعفے یا سرفراز بگٹی کے قتل سے بلوچستان میں امن آ جائے گا، تو میں پہلا آدمی ہوں گا جو کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے بھائی سے کہوں گا کہ مجھے گولی مار دے، لیکن بلوچستان کے لوگوں میں امن آ جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نواب زادہ میر سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی کے موقع پر تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس موقع پر صوبائی وزیرا میر عاصم کرد گیلو، بخت محمد کاکڑ، میر ضیائ اللہ لانگو، میر سیلم کھوسہ ودیگر نے شرکت کی انہوں نے کہا کہ میں انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب بیس معصوم پشتون کٹ کوچہ میں شہید ہوئے تھے، تو کیا آپ کے بھائی نے استعفیٰ دیا تھا؟ کیا آپ کے بھائی نے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا؟ کیا آپ کے بھائی نے وزرات کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا؟ اور جو وزراءکرام آج دھرنے میں موجود ہیں، کیا انہوں نے استعفیٰ دیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ سانحہ آٹھ اگست کو ہمارے وکلاءکو بے دردی سے شہید کیا گیا تھا، تو کیا آپ کے استعفے آئے تھے حضور ؟ اس کے بعد جتنے بھی واقعات ہوئے، خصوصاً پولیس لائن میں، جہاں تیس سے زائد ہمارے نوجوان ریکروٹس بے دردی سے شہید کیے گئے، اس رات یہ میڈیا کے دوست گواہ ہیں کہ سب سے پہلے وہاں پہنچنے والا شخص سرفراز بگٹی تھا۔لہٰذا یہ استعفوں کا معاملہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست ضرور کریں، میری کوتاہی پر کریں، اگر آپ کو میری بدانتظامی (بیڈ گورننس) نظر آتی ہے تو اس پر تنقید کریں، اگر آپ کو میری کرپشن نظر آتی ہے تو اس پر بات کریں، میری اصلاح کریں۔ اپوزیشن کا مطلب اپوزیشن ہے، لیکن خدا کے واسطے لاشوں کی سیاست چھوڑ دیں۔ شہدا کی لاشوں پر سیاست نہ کریں۔ میں شہدا کے لواحقین اور سیاسی جماعتوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ کی جو جائز مطالبات ہیں، ہم انہیں پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جو کام اسمبلی کا ہے، وہ اسمبلی کرے گی، اور جو کام صوبائی حکومت کا ہے، وہ صوبائی حکومت انجام دے گی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کو شہید کرکے وطن سے محبت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ان کی شہادت کے بعد عوام کی محبت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ جس طرح ان کے والد ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، وہ بھی اسی عزم کے ساتھ ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔تقریب کے اختتام پر شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی سمیت وطن عزیز کے تمام شہداء کے درجات کی بلندی، ملکی سلامتی، امن اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں