زیارت حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی لیکن کچھ سیاسی لیڈران نے الزام ریاست پر لگانے کی کوشش کی، سرفراز بگٹی
ویب ڈیسک: فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیراہتمام پاکستان بھر کے طلبا وطالبات کیلئے سمرکیمپ 2026 کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی طالب علموں کیساتھ خصوصی نشست رکھی گئی۔سرفراز بگٹی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال ذمہ داری، تحقیق اور شعور کیساتھ کریں، گمراہ کن معلومات اور پروپیگنڈا نوجوان ذہنوں کو متاثر کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔طلبا سے خطاب میں وزیراعلیٰ میرسرفرازبگٹی نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال ،درپیش چیلنجز اورنوجوانوں کے قومی شعور پر روشنی ڈالی جبکہ طالب علموں کے سوالات سن کران کے جوابات بھی دیے۔ وزیراعلیٰ میرسرفرازبگٹی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی اور تشدد کی کسی بھی شکل کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے حالیہ عالمی بحران کے دوران پاکستان کی سول وعسکری قیادت کے اہم کردار کوسراہتے ہوئے کہا کہ آج وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان عالمی منظرنامے میں مرکز نگاہ بن چکا ہے۔
وزیراعلی نے خطاب میں مزید کہا کہ زیارت میں پولیس پر حملہ ہوتا ہے انہوں نے بہادری کیساتھ ان کا مقابلہ کیا جب فورس ان کو مدد کیلئے پہنچی تو ان پر راستے میں حملہ ہوگیا کچھ سیاسی لیڈرز نے پشتون جوانوںبتا نا شروع کر دیا کہ یہ جو حملہ ہوا ہے یہ آپ کے اپنے لوگوں کیا یہ اتنی بڑی سازش ہے ریاست پاکستان کیخلاف کیونکہ زیارت حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے خود قبول کیا ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی نانی را ہے جس میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہورہی ہیں پاکستان کو تشدد کی ذریعے تھوڑنے کا جو خواب ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں پاکستان تا قیامت رہے گا پاکستان اور بلوچستان کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہے بلوچستان امن کی طرف بڑھے گا کسی کا باپ نہیں روک سکتا ۔


