بلوچستان کے حالات نہ مکمل طور پر معمول پر ہیں، نہ اتنے خراب جتنا تاثر دیا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ

کوئٹہ (یو این اے ) وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ عمران خان کی پالیسی کے تحت بلوچستان میں گرفتار دہشت گردوں کو عام معافی دی گئی آج بھی بلوچستان بھگت رہا ہے بلوچستان میں ہر صورت امن قائم کریں گے ایک سال کے دوران بلوچستان میں مجموعی طور پر ایک ہزار دہشت گرد مارے گئے ہیںزیادہ تر شاہراہیں معمول کے مطابق فعال ہیں، صرف چند علاقوں میں سیکیورٹی چیلنجز موجود ہیں دھرنا کمیٹی کی جانب سے لیویز فورس کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم حکومت نے یہ مطالبہ قبول نہیں کیازیارت سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم، آل پارٹیز کانفرنس بھی طلب کریں گے بلوچستان کے حالات نہ مکمل طور پر معمول پر ہیں، نہ اتنے خراب جتنا تاثر دیا جا رہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلی نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن "شعبان” بھرپور انداز میں جاری ہے، جس کے دوران اب تک 91 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران بلوچستان میں مجموعی طور پر ایک ہزار دہشت گرد مارے گئے ہیں سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی زیارت سانحے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے تاکہ واقعے کے تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اگر وہ یہ دعوی کریں کہ بلوچستان میں کرپشن مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے تو یہ درست نہیں ہوگا، تاہم صوبائی حکومت کرپشن کے خاتمے اور نظام میں شفافیت لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ بلوچستان ایکٹ کے مطابق ایک رکنِ صوبائی اسمبلی کو سیکیورٹی کے لیے چھ گارڈز جبکہ ایک صوبائی وزیر کو آٹھ گارڈز رکھنے کی اجازت ہے۔لیویز فورس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دھرنا کمیٹی کی جانب سے لیویز فورس کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم حکومت نے یہ مطالبہ قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جلد آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) طلب کرے گی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ اپنا مقف پیش کریں، جبکہ حکومت بھی اپنی پالیسی اور اقدامات سے آگاہ کرے گی۔ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، اتفاق رائے اور عوامی تعاون سے ہی ممکن ہے، اور حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتی ہے انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں متوازن انداز میں بات کرنے کی ضرورت ہے یہ کہنا درست نہیں کہ صوبے میں ہر چیز معمول کے مطابق ہے، تاہم یہ تاثر بھی حقیقت پر مبنی نہیں کہ بلوچستان مکمل تباہی یا بدترین حالات سے دوچار ہو چکا ہے بلوچستان اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، اس لیے پورے ملک کے عوام کی بلوچستان کے حوالے سے تشویش بجا ہے بلوچستان کو درپیش مسائل حقیقی ہیں، لیکن ان کی شدت کے بارے میں غیر ضروری منفی تاثر بھی درست نہیںاگر میں یہ کہوں کہ بلوچستان میں ہر چیز بالکل نارمل ہے تو یہ درست نہیں ہوگا، لیکن یہ کہنا بھی حقیقت نہیں کہ پورا بلوچستان تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ حالات ٹھیک بھی نہیں اور اتنے خراب بھی نہیں جتنا بعض حلقے پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کی مختلف قومی شاہراہوں کی حفاظت ریاستی اداروں، خصوصا فرنٹیئر کور اور بلوچستان پولیس کی ذمہ داری ہے نوشکی سے ایران بارڈر جانے والی شاہراہ پر سیکیورٹی مسائل موجود ہیں، جبکہ این-25 کوئٹہ، کراچی شاہراہ پر بھی بعض اوقات واقعات پیش آتے ہیں، تاہم مجموعی صورتحال اس قدر خراب نہیں جتنی بعض حلقوں کی جانب سے پیش کی جاتی ہے ای-70 شاہراہ کے ذریعے پنجاب اور بلوچستان کے درمیان ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ بولان سے جیکب آباد کی جانب روزانہ ہزاروں گاڑیاں سفر کرتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں آمدورفت مکمل طور پر بند نہیں ہے۔ اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ منتخب عوامی نمائندے اپنے حلقوں میں نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ چند مخصوص افراد کے علاوہ بیشتر ارکان اسمبلی نے گزشتہ عید اپنے اپنے علاقوں میں عوام کے ساتھ منائی، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ تمام منتخب نمائندے اپنے علاقوں میں جانے سے قاصر ہیں۔ حکومت زمینی حقائق کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ این-25 شاہراہ پر ترقیاتی کام بھی جاری ہے اور بعض اوقات سیکیورٹی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ یہ شاہراہ مکمل طور پر غیر محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوشکی کی جانب جانے والی شاہراہ پر نسبتا زیادہ سیکیورٹی چیلنجز موجود ہیں، جہاں ریاستی ادارے صورتحال بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ منتخب عوامی نمائندے اپنے حلقوں میں نہیں جا سکتے۔ ریکارڈ سے ثابت ہے کہ چند مخصوص افراد کے علاوہ گزشتہ عید پر بیشتر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنے اپنے علاقوں میں موجود تھے اور عوام کے ساتھ عید منائی۔ ا یہ کہنا درست نہیں کہ تمام منتخب نمائندے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے حلقوں میں جانے سے قاصر ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں شفیق مینگل پر حملہ ہوا، جو ایک افسوسناک واقعہ ہے شفیق مینگل پاکستان کا ایک اہم اثاثہ اور موثر آواز ہیں، تاہم ایسے واقعات سے یہ تاثر نہیں لیا جانا چاہیے کہ پورا بلوچستان غیر محفوظ ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ خود 2002 سے دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف سیاسی جدوجہد کرتے آ رہے ہیں اور مشکل حالات کا سامنا کیا ہے۔ بلوچستان کی بیشتر شاہراہوں پر معمول کے مطابق آمدورفت جاری ہے، اگرچہ بعض مخصوص علاقوں میں سیکیورٹی مسائل درپیش ہیں۔ دہشت گرد کارروائی کے بعد فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کو جوابی کارروائی کے لیے دشوار گزار علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں دہشت گرد گھات لگا کر حملوں کی کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ سرچ آپریشنز بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔سابق حکومت عمران خان کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے بعد دہشت گردوں کے ساتھ مفاہمت کی جو پالیسی اختیار کی گئی، اسے بعض لوگ "مصالحت” کہتے ہیں، مگر ان کے نزدیک وہ دراصل "پسپائی” تھی دنیا میں کوئی بھی ریاست دہشت گردوں کے سامنے جھک کر امن قائم نہیں کر سکتی، اس لیے موجودہ حکومت دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی اور بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس ایسے افراد کی تفصیلات موجود ہیں جنہیں رہا کیا گیا، لیکن انہوں نے معمول کی زندگی اختیار کرنے کے بجائے دوبارہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے )اور دیگر دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لی۔ دہشت گردی کے خلاف قائم سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو بھی سابق پالیسی کے تحت ختم کیا گیا، جس سے شدت پسند عناصر کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہوئی۔ دہشت گردی جیسے معاملے پر کھل کر بات ہونی چاہیے کیونکہ روزانہ سیکیورٹی اہلکار اور شہری اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں انہوں نے بطور رکن اسمبلی اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو بھی دہشت گردوں کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ یہ حکمت عملی ریاست کے مفاد میں نہیں۔ ان کے بقول، ایک ریاست دہشت گردی کے خلاف غیرجانبدار نہیں رہ سکتی بلکہ اسے دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن مقف اختیار کرنا ہوتا ہے۔میر سرفراز بگٹی نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کی بنیادی وجہ سابق حکومت کی "مفاہمتی یا پسپائی کی پالیسی” ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے نتائج آج بھی بلوچستان بھگت رہا ہے، جبکہ موجودہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں