تمپ،دازن کے رہائشی مقتول ظریف بلوچ کے اہل خانہ کی پریس کانفرنس،گھروں سے سامان لے جانے اور دھمکیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

تربت(انتخاب نیوز) تمپ دازن کے رہائشی مقتول ظریف بلوچ ولد عمر کی فیملی نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ 27 دسمبر 2024 کو ظریف بلوچ کو قتل کیا گیا اور لاش پھینک دی گئی،جبکہ 22 مئی 2026 کو ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور گھروں سے سونا اور نقدی اور سامان بھی لے جایا گیا۔ صرف ان کا ہی نہیں بلکہ ان کی دیگر بہنوں اور رشتہ داروں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔پہلے ظریف بلوچ کیلئے آتے تھے اب کس کیلئے آ رہے ہیں جبکہ ہمارے گھروں میں اب کوئی بھی مرد نہیں ہے۔ 21 جولائی کو دوبارہ ان کے گھروں پر کارروائی کی گئی اور قیمتی سامان چوری کرکے لے جایا گیا۔ انہیں مسلسل ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، وہ ایک عورت ہیں اور اللہ کے سہارے زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے بقول ان کے چچا اور دیگر رشتہ داروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ گاڑیوں میں سامان لوڈ کرکے لے جایا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ گھروں سے سونا، نقدی اور دیگر قیمتی اشیاءبھی لے جائی گئیں۔ اگر کسی کو ان سے ذاتی مسئلہ ہے تو انہیں بتایا جائے، کیونکہ ان کے بقول ان کے گھر میں نہ کوئی اسلحہ ہے اور نہ ہی کوئی غیر قانونی چیز ہے۔ انہیں انصاف فراہم کیا جائے ان کے ساتھ ہونے والے مبینہ واقعات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں