اپوزیشن کے دھڑے پھر اکٹھے

تحریر سرفراز خان


اپوزیشن کے دھڑے پھر اکٹھے، اپوزیشن ن لیگ کی سیاست ختم کرنے نہیں بلکہ اپنی سیاست بچانے لگی ہے۔ جوائنٹ اپوزیشن اتحاد، ایک بار پھر ایوانوں میں گونج اٹھ رہا ہے، تجزیے، تبصرے کیے جا رہے ہیں، ٹی وی ٹاک شوز پر عمران ریلیف پروگرام کیے جا رہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اسمبلی سے استعفے کا عندیہ دیا تو رات گئے ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کے رہنما ایک ساتھ نظر آئے۔ البتہ پیپلز پارٹی نظر تو نہیں آئی، مگر پیپلز پارٹی اس ساکن کھڑے پانی کی طرح ہے جو کسی بھی وقت ن لیگ کو ڈبو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی بیک ڈور رابطے میں بھی ہو سکتی ہے۔ اس بات کا واضح ثبوت بیرسٹر گوہر کا اسمبلی اجلاس میں یہ کہنا ہے کہ وہ بلاول کا شکر گزار ہیں، انہوں نے عمران خان کی صحت کی صورتحال کو سنجیدہ لیا۔ مطلب بلاول بھٹو گرم موسم میں کھڑکیوں سے ٹھنڈی ہواؤں کو محسوس کرنا چاہتے ہیں۔

مگر ان سب میں مولانا فضل الرحمان بڑے تگڑے نظر آ رہے ہیں۔ گویا جو مولانا نے ماضی میں پی ڈی ایم بنائی، جس میں یہ بات نکلی کہ مولانا صدر بننا چاہتے تھے، مگر موجودہ دیگ خود پک کر مولانا کی دستک پر پہنچی کہ گرم پلاؤ میں گوشت زیادہ ہے، آؤ کرسی پر بیٹھو اور دیگ کے مالک بنو۔

مطلب مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی سے مل کر کوشش کریں گے کہ خیبرپختونخوا یا پھر وفاق میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کریں۔ مولانا پارلیمنٹ کی طاقت کی سیاست کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کی موجودہ صورتحال اور نقوش اسی طرح گویا جیسے مفتی محمود موجود ہیں اور 70 کی دہائی چل رہی ہے، اور تمام سیاسی جماعتیں، بشمول نیپ، بھٹو کے خلاف نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہوں۔ اور اب بھی کہیں نہ کہیں یہ گونج نظر آ رہی ہے کہ الیکشن کروائے جائیں۔

جس طرح مولانا نے 21 اگست، بروز جمعہ، اپنی پریس کانفرنس میں کہا، ایک طرف چین ناراض ہے، 70 ارب کی معافی کی درخواست پر کوئی مؤثر جواب نہیں دے رہا، دوسری طرف افغانستان کا بارڈر بند ہے، ایران کی صورتحال ہو یا پھر بھارت کے ساتھ موجودہ کشیدہ صورتحال، جس نے ہمارا پانی تک بند کرکے رکھا ہوا ہے، ہمارے پانی پر ڈیم بھارت نے بنا رکھے ہیں۔

اسی طرح ماضی میں بھی پی این اے، پاکستان نیشنل الائنس، نے 30 اپریل کو راولپنڈی میں لانگ مارچ کا پروگرام بنایا تھا، جس کی قیادت پیر پگاڑا شریف نے کی۔

مگر اسی وقت بھی صورتحال کچھ درست نہیں تھی۔ امریکی وزیر ہنری کسنجر کی طرف سے بھٹو کو ایٹمی پروگرام پر دھمکی دی گئی تھی، افغانستان میں یو ایس ایس آر تھا، بھارت ایٹم دھماکے کر رہا تھا، ایران میں خمینی انقلاب دستک دے چکا تھا، پاکستان میں سول ایمرجنسی کی صورتحال تھی، بلوچستان میں لوگوں کو آٹا تک مہیا نہیں تھا۔

28 اپریل 1977، جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ احمد خلیفہ السویدی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کے مشن پر پہنچے، اور پی این اے کے نظر بند لیڈران سے ملاقات بھی کی، تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

ان دنوں بھٹو کے کافی گہرے اور مضبوط تعلقات تھے اسلامی دنیا کے لیڈران کے ساتھ۔ بعد ازاں عرب امارات کے وزیر خارجہ واپس چلے گئے، مگر شیخ ریاض ایکٹو تھے۔ انہوں نے مولانا مفتی محمود سے ہسپتال، سی ایم ایچ، جا کر ملاقات اور راضی کرنے کی کوشش کی۔

4 مئی، بدھ کو لیبیا کے وزیر خارجہ علی عبدالسلام الطریکی نے بھی بھٹو اور مفتی محمود سے ملاقاتیں کیں، اور کرنل قذافی کی خواہش بتائی کہ پاکستان میں امن و امان دیکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن یکم جون 1977 کو شیخ ریاض الخطیب نے بھٹو سے ملاقات کی اور وہ ضمانت چاہتے تھے۔

مگر وقت کی نزاکت اور مولانا فضل الرحمان اور ان کے والد کی سیاسی سرگرمیاں ایک جیسی نظر آ رہی ہے تب مولانا مفتی محمود بھی اپوزیشن کا ساتھ دے رہے تھے، اور آج مولانا فضل الرحمان بھی اپوزیشن کا ساتھ دے رہے ہیں۔ آج بھی ملک، بلوچستان، ایران یا مڈل ایسٹ کی صورتحال مختلف نہیں۔

کہیں نہ کہیں یہ خبر چل رہی ہے کہ پی ٹی آئی استعفیٰ دیتی ہے اور مولانا پی ٹی آئی کا ساتھ دے

مولانا نے یہ بھی 21 آگست جمعہ کی پریس کانفرنس میں کہ ہم مزید مشاورت کرکے دوسری سیاسی پارٹیز کو بھی انگیج کریں گے۔

مگر سیاست میں دلچسپی رکھنے والے ایک سوال کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی پہلے بھی پنجاب اسمبلی، خیبرپختونخوا اسمبلی سے 2023 جنوری میں استعفیٰ دے کر نکلی، اپنی اسمبلی خود ہی توڑی، جو کہ پی ٹی آئی کی تاریخ کے غلط ترین فیصلوں میں تھا۔ کیا پی ٹی آئی بدترین فیصلے دوبارہ دہرانے جا رہی ہے؟

ان میں وہی مولانا شامل ہیں جن پر پی ٹی آئی نے اپنی مخصوص نشستیں چوری کرنے کا الزام لگایا، جس پر قاضی فائز کی عدالت نے فیصلہ دیا تھا۔

اور دوسری جانب یہ بھی فکر ہے کہ کہیں جو سسٹم کا نامور ہے، سسٹم تباہ ہونے کی بات کرتا ہے، وہ استعفیٰ دے دے تو مطلب بڑی دیگ پک چکی ہے، بس ہلکی آنچ پر دیگ کو دم لگایا جا رہا ہے۔

تو یہی اصل بات ہے جس سے سب سیاسی پارٹیز ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر سوچ رہی ہیں، کچھ بڑا یا برا ہونے سے پہلے اکٹھا ہو کر سیاست، جمہوریت بچائی جائے۔

پی ٹی آئی اور محسن نقوی کی نفسیات آپس میں پھنس چکی ہیں۔ محسن نقوی پی ٹی آئی سے ڈر رہے ہیں، اگر پی ٹی آئی استعفیٰ دے کر سڑک پر آتی ہے تو نظام پہلے ہی تباہ ہے، مزید پی ٹی آئی راستہ تنگ نہ کرے۔ اور پی ٹی آئی محسن نقوی سے ڈرتی ہے کہ اگر محسن نقوی استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا ہے تو پیچھے بیٹھے اشخاص خود ہی سمت درست کرنا چاہیں گے۔

اگر پاکستان الیکشن کی طرف جاتا ہے تو ن لیگ کے لیے کچھ زیادہ نہیں، البتہ گراؤنڈ پر آسانی کریں گے۔

اور موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہ سوالات گونجتے ہیں:

کیا پاکستان الیکشن کی طرف جا رہا ہے؟
کون کس کی سیاست بچا رہا ہے؟
مولانا آخر کے بجائے شروع میں بھی ساتھ دے سکتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں