میر غوث بخش بزنجو کا سیاسی فلسفہ اور آج کا بلوچستان
میر رحمت صالح بلوچ
تاریخ کبھی صرف تاریخ نہیں ہوتی۔ وہ اپنے اندر آنے والے کل کے اشارے بھی چھپا کر رکھتی ہے۔ قومیں جب اپنے ماضی سے سبق لینا چھوڑ دیتی ہیں تو وہی غلطیاں بار بار ان کے مستقبل کا مقدر بن جاتی ہیں۔ بلوچستان کی سیاسی تاریخ بھی ایسی ہی داستان ہے؛ ایک ایسی سرزمین کی داستان جو قدرت کی بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہے، مگر جہاں آج بھی ترقی، امن، انصاف اور اعتماد کی تلاش جاری ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں پہاڑ خاموش ہیں مگر ان کی خاموشی کے پیچھے کئی نسلوں کی کہانیاں دفن ہیں، جہاں سمندر ہر روز نئی امید کے ساتھ ساحل سے ٹکراتا ہے، مگر بہت سے دل اب بھی بہتر مستقبل کے منتظر ہیں۔
ایسے ہی حالات میں جب ہم میر غوث بخش بزنجو کی برسی مناتے ہیں تو یہ صرف ایک بزرگ سیاست دان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب نہیں رہتی، بلکہ یہ اپنے سیاسی شعور، قومی رویوں اور وفاقی نظام کا جائزہ لینے کا لمحہ بھی بن جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ میر غوث بخش بزنجو کون تھے؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کی فکر کو سمجھا؟ کیا ہم نے ان کے خوابوں کی تعبیر کے لیے کچھ کیا؟ اور کیا آج کا بلوچستان اس راستے پر چل رہا ہے جس کی نشاندہی انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں کی تھی؟
میر غوث بخش بزنجو ان رہنماو¿ں میں شامل تھے جنہوں نے سیاست کو اقتدار کی سیڑھی نہیں بلکہ خدمت، اصول اور برداشت کا نام دیا۔ وہ ان سیاست دانوں میں سے نہیں تھے جو حالات کے ساتھ اپنا نظریہ بدل لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست کا مقصد حکومت حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کو بااختیار بنانا، آئین کو مضبوط کرنا اور وفاق کی بنیادوں کو مستحکم کرنا تھا۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ پاکستان کی طاقت بندوق، وسائل یا عمارتوں میں نہیں بلکہ اس کے عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہے۔ اگر عوام خود کو اس ریاست کا برابر کا شریک محسوس کریں تو وفاق مضبوط ہوگا، لیکن اگر اعتماد ٹوٹ جائے تو بڑی سے بڑی ترقی بھی دلوں کو نہیں جیت سکتی۔
آج اگر ہم بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وقت بدل گیا ہے، حکومتیں بدل گئیں، پالیسیاں تبدیل ہوئیں، ترقیاتی منصوبے آئے، اربوں روپے کے منصوبوں کے اعلانات ہوئے، گوادر عالمی نقشے پر ابھرا، ریکوڈک دنیا کی توجہ کا مرکز بنا، مگر ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا بلوچستان کا عام شہری خود کو اس ترقی کا حصہ محسوس کرتا ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ کسی بھی ترقی کا اصل پیمانہ صرف سڑکیں، عمارتیں اور سرمایہ کاری نہیں ہوتیں۔ اصل پیمانہ وہ نوجوان ہوتا ہے جسے روزگار ملے، وہ طالب علم ہوتا ہے جسے معیاری تعلیم نصیب ہو، وہ مریض ہوتا ہے جسے علاج میسر آئے، وہ کسان ہوتا ہے جسے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملے اور وہ ماہی گیر ہوتا ہے جو اپنے ہی ساحل پر باعزت زندگی گزار سکے۔ اگر ترقی کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچیں تو ترقی صرف رپورٹوں میں رہ جاتی ہے، عوام کی زندگی میں نہیں۔
بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً نصف ہے، مگر آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ اس کی زمین کے نیچے سونا، تانبا، گیس، کوئلہ اور بے شمار معدنی وسائل موجود ہیں۔ اس کے ساحل مستقبل کی عالمی تجارت کا دروازہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس کی سرحدیں تین ممالک کے درمیان معاشی روابط کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود اگر یہاں کا نوجوان بے روزگار ہو، طالب علم بہتر تعلیمی سہولتوں سے محروم ہو اور عام آدمی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہا ہو تو یقیناً کہیں نہ کہیں ریاست، سیاست اور منصوبہ بندی کو خود اپنا احتساب کرنا ہوگا۔
میر غوث بخش بزنجو اسی احتساب کی آواز تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ مسائل کو دبانے سے نہیں بلکہ سننے سے حل کیا جاتا ہے، اختلاف کو دشمنی میں بدلنے سے نہیں بلکہ مکالمے میں تبدیل کرنے سے راستے نکلتے ہیں، اور وفاق اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب ہر صوبہ، ہر زبان اور ہر قوم خود کو اس ریاست کا برابر کا مالک محسوس کرے نہ کہ محض ایک انتظامی اکائی۔
بلوچستان کا مسئلہ کبھی بھی صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں رہا۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید یہ کئی دہائیوں پہلے حل ہو چکا ہوتا۔ یہ مسئلہ تاریخ، سیاست، معیشت، آئین، وسائل، شناخت اور عوامی اعتماد کے مختلف پہلوو¿ں سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے اسے صرف ایک زاویے سے دیکھنا ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوا۔ کبھی اسے صرف سکیورٹی کا مسئلہ سمجھا گیا، کبھی اسے صرف ترقیاتی منصوبوں سے جوڑ دیا گیا، اور کبھی اسے بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دے کر اصل داخلی سوالات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا ہر پہلو دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک تمام پہلوو¿ں کو ایک ساتھ نہیں دیکھا جائے گا، تب تک کوئی بھی حل دیرپا ثابت نہیں ہو سکتا۔
میر غوث بخش بزنجو اسی جامع سوچ کے علمبردار تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف امن قائم کرنا نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنا بھی ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں کا نام نہیں بلکہ عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کا نام ہے۔ ان کی نظر میں اگر کسی منصوبے سے مقامی نوجوان کو روزگار نہ ملے، مقامی طالب علم کو تعلیم کا بہتر موقع نہ ملے، مقامی تاجر کا کاروبار نہ بڑھے اور عام آدمی کی زندگی آسان نہ ہو تو وہ ترقی اپنی روح کھو دیتی ہے۔
آج بلوچستان کے نوجوان کے سامنے سب سے بڑا سوال روزگار اور مستقبل کا ہے۔ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہزاروں نوجوان ملازمت کی تلاش میں دربدر ہیں۔ سرحدی علاقوں میں آباد خاندان بارڈر ٹریڈ پر انحصار کرتے ہیں، مگر پالیسیوں میں تبدیلی یا سرحدی پابندیوں کا سب سے زیادہ اثر بھی انہی پر پڑتا ہے۔ ماہی گیر اپنے ساحل پر بہتر سہولتوں کے منتظر ہیں، جبکہ معدنی وسائل سے مالا مال اضلاع کے نوجوان یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کی زمین سے نکلنے والی دولت میں ان کا حصہ کہاں ہے؟
یہ سوال صرف بلوچستان کے نہیں بلکہ وفاق کی مضبوطی کے سوالات ہیں۔ دنیا کی کامیاب وفاقی ریاستوں کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وہاں وسائل کی تقسیم انصاف کے اصول پر ہوتی ہے، مقامی آبادی کو ترقی میں شریک کیا جاتا ہے اور فیصلے مشاورت کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ جب لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ریاست ان کی ہے، وسائل بھی ان کے ہیں اور مستقبل کی تعمیر میں ان کی آواز بھی شامل ہے تو احساسِ محرومی خودبخود کم ہونے لگتا ہے۔
میر غوث بخش بزنجو اسی سوچ کے داعی تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ بلوچستان کو کسی خصوصی رعایت کی نہیں بلکہ آئین میں دیے گئے حقوق کی ضرورت ہے۔ ان کا مطالبہ یہ نہیں تھا کہ بلوچستان کو دوسروں سے زیادہ دیا جائے، بلکہ یہ تھا کہ اسے وہ دیا جائے جس کی ضمانت خود آئینِ پاکستان دیتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ آئین صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کا معاہدہ ہے۔ جب اس معاہدے کی روح پر عمل ہوگا تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورا پاکستان زیادہ مستحکم ہوگا۔
اسی تناظر میں انہوں نے صوبائی خودمختاری کو اپنی سیاست کا بنیادی ستون بنایا۔ ان کا خیال تھا کہ اختیارات کا ارتکاز مسائل کو جنم دیتا ہے، جبکہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔ اسی لیے وہ اٹھارویں آئینی ترمیم جیسے اقدامات کو وفاق کی مضبوطی کی طرف اہم پیش رفت سمجھتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک طاقت کی تقسیم ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتی ہے۔
میر غوث بخش بزنجو کی سیاسی فکر کا ایک اور نمایاں پہلو صوبوں کی وحدت کا تحفظ تھا۔ وہ بلوچستان کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس کے نام پر اس کی تاریخی اور جغرافیائی شناخت کو کمزور کرنے کے مخالف تھے۔ ان کا مو¿قف تھا کہ اگر کسی علاقے میں انتظامی مسائل موجود ہیں تو ان کا حل نئی سرحدیں کھینچنا نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا، اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا، انصاف کی فراہمی اور عوامی نمائندوں کو بااختیار بنانا ہے۔ ان کے نزدیک صوبوں کو تقسیم کرنا مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے تنازعات کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے۔
آج جب وقتاً فوقتاً بلوچستان کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس کی تجاویز سامنے آتی ہیں تو میر غوث بخش بزنجو کی یہ سوچ پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اس میں نہیں کہ اس کی وفاقی اکائیوں کی جغرافیائی ہیئت تبدیل کی جائے، بلکہ اس میں ہے کہ ان کے درمیان اعتماد، انصاف اور برابری کے رشتے کو مضبوط کیا جائے۔ مضبوط وفاق کا راستہ تقسیم سے نہیں بلکہ شراکت، آئین کی پاسداری اور جمہوری رویوں سے ہو کر گزرتا ہے۔


