کراچی، ترقی کے نیچے دفن ہوتی ایک شناخت

تحریر : ابو شہداد


کراچی کو آج ہم ایک شہری پھیلاؤ کے طور پر دیکھتے ہیں جس کی آبادی کروڑوں تک پہنچ چکی ہے، مگر اس جدید شہر کی تہوں کے نیچے ایک اور کراچی بھی دفن ہے؛ وہ کراچی جو کبھی کھیتوں، چراگاہوں، ندی نالوں، ماہی گیر بستیوں اور قدیم گوٹھوں کا مجموعہ تھا۔ یہ وہ کراچی تھا جہاں بلوچ اور سندھی بولنے والے مقامی قبائل، ساحلی مچھیرے اور دوسری قدیم آبادیاں صدیوں سے اپنی سماجی، معاشی اور ثقافتی زندگی قائم کیے ہوئے تھیں۔
کراچی کی تاریخ صرف برطانوی دور یا قیام پاکستان سے شروع نہیں ہوتی۔ شہر اور اس کے مضافات میں موجود قدیم قبرستان، قبریں، گوٹھ اور تاریخی مقامات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں مختلف مقامی قبائل کئی نسلوں سے آباد تھے۔ ملیر، گڈاپ اور دوسرے علاقوں میں بلوچ اور سندھی قبائل کے گوٹھ، کھیت اور چراگاہیں تھیں، جبکہ ساحلی پٹی پر مچھیرے اپنی بستیوں اور روزگار کے ساتھ آباد تھے۔
یہ تاریخی پس منظر ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے: قیام پاکستان کے بعد کراچی کی ترقی سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا اور اس ترقی کی قیمت کس نے ادا کی؟
1947ء کے بعد ہندوستان سے آنے والے لاکھوں مہاجرین نے کراچی کی آبادی، معیشت اور شہری ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کیا۔ ایک نئی ریاست کے طور پر مہاجرین کی آبادکاری ریاست کی ذمہ داری تھی، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب آبادکاری اور شہری توسیع کا دباؤ ان زمینوں پر پڑا جہاں پہلے سے مقامی آبادیاں، کھیت، چراگاہیں اور گوٹھ موجود تھے۔
یہاں یہ فرق واضح رہنا چاہیے کہ مسئلہ ہندوستان سے آنے والے لوگوں، ان کی زبان یا ان کی ثقافت کا نہیں، بلکہ اس ریاستی اور شہری منصوبہ بندی کا ہے جس میں مقامی آبادی کے حقوق، زمین اور وسائل اکثر ثانوی حیثیت اختیار کرتے گئے۔
یہ عمل 1947ء کے بعد آنے والی آبادی تک محدود نہیں رہا۔ ایوب خان کے دور میں کراچی کو صنعتی مرکز بنانے کی پالیسی نے ملک کے مختلف حصوں سے مزید آبادی کو یہاں کھینچ لیا۔ کورنگی، لانڈھی اور دوسرے علاقوں میں کارخانے اور صنعتی زون قائم ہوئے۔ خیبر پختونخوا اور دوسرے پشتون علاقوں سے بڑی تعداد میں محنت کش کراچی آئے، جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع اور شہروں سے بھی لوگ روزگار، صنعت اور کاروبار کے لیے یہاں آباد ہوتے گئے۔
ان تمام آبادیوں نے کراچی کی تعمیر، صنعت اور معیشت میں اپنا کردار ادا کیا اور یہ کردار اپنی جگہ قابلِ احترام ہے۔ لیکن اس پورے عمل میں بنیادی سوال یہ ہے کہ مقامی باشندے کہاں کھڑے رہے؟
کراچی بڑھتا گیا، نئی آبادیاں بنتی گئیں، صنعتیں قائم ہوتی گئیں اور زمین کا استعمال تبدیل ہوتا گیا، مگر مقامی گوٹھوں، زرعی زمینوں اور چراگاہوں کا دائرہ سکڑتا چلا گیا۔
1950ء کی دہائی میں مہاجرین کی آبادکاری کے لیے کورنگی ٹاؤن شپ قائم ہوئی۔ اس کے بعد کورنگی اور لانڈھی میں صنعتی علاقے وجود میں آئے۔ جن زمینوں پر مقامی لوگ کاشت کاری کرتے تھے یا جنہیں وہ اپنے روایتی معاشی وسائل کے طور پر استعمال کرتے تھے، وہ ریاستی منصوبہ بندی، آبادکاری اور صنعتی توسیع کا حصہ بنتی گئیں۔
یہی شہری پھیلاؤ بعد میں کراچی کے دوسرے حصوں تک پہنچا۔ گلشنِ اقبال اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ آج گلشنِ اقبال کراچی کی معروف شہری شناخت ہے، مگر اس کے اردگرد کبھی گبول بلوچوں اور دیگر مقامی آبادیوں کے گوٹھ، کھیت اور چراگاہیں موجود تھیں۔ نئے شہری منصوبوں کے ساتھ ان علاقوں کی زمینیں شہری استعمال میں آتی گئیں اور بہت سے قدیم نام نقشے سے غائب ہوگئے۔
آج ہر شخص گلشنِ اقبال کو جانتا ہے، مگر کتنے لوگ لیمو گبول گوٹھ کو جانتے ہیں؟ کتنے لوگ شعبان گارڈن کے پیچھے موجود مقامی تاریخ سے واقف ہیں؟ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ اس وسیع خطے میں گبول بلوچوں کے کتنے گوٹھ آباد تھے؟
یہ صرف نام مٹنے کا مسئلہ نہیں۔ نام کے ساتھ تاریخ، خاندان، قبائلی تعلق اور اجتماعی یادداشت بھی کمزور ہوتی ہے۔ آج ایک نئی نسل شاید یہ جانتی ہے کہ وہ گلشنِ اقبال میں رہتی ہے، مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس زمین پر کون آباد تھا۔
کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی یہی داستان مختلف شکلوں میں دہرائی گئی۔ سوراب گوٹھ، ناٹھا خان گوٹھ، چنیسر گوٹھ، ڈالمیا، لیمو گبول گوٹھ، لالو کھیت، شعبان گارڈن اور ایسے کئی مقامات کے نام آج بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے علاقوں کی اصل سماجی، قبائلی اور جغرافیائی شناخت شہری پھیلاؤ کے نیچے دب چکی ہے۔
ملیر اس پورے عمل کی شاید سب سے نمایاں مثال ہے۔ ایک زمانے میں ملیر پھلوں، سبزیوں اور زرعی پیداوار کے لیے معروف تھا۔ یہاں کی زمین صرف کسان کی ملکیت نہیں تھی بلکہ ایک مکمل معاشی اور ماحولیاتی نظام کا حصہ تھی۔ کھیت، درخت، چراگاہیں، ندی نالے اور زیرِ زمین پانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
شہری پھیلاؤ کے ساتھ زرعی زمین کم ہوتی گئی۔ ندی نالوں سے ریتی بجری نکالنے اور تعمیراتی سرگرمیوں نے قدرتی ماحول اور پانی کے نظام کو بھی متاثر کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ زمین کا صرف معاشی استعمال ہی نہیں بدلا بلکہ وہ ماحول بھی متاثر ہوا جس نے صدیوں تک مقامی آبادی کو زندہ رکھا تھا۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک گوٹھ صرف مکانوں کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ قبرستان، کھیت، چراگاہیں، پانی کے راستے، اجتماعی یادداشت اور نسلوں کا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے جب ایک گوٹھ ختم ہوتا ہے تو صرف چند گھر نہیں گرتے، ایک تاریخی شناخت بھی کمزور ہوتی ہے۔
آج ملیر میں ایجوکیشن سٹی کا منصوبہ اسی بڑے سوال کا ایک نیا باب ہے۔ تعلیم، یونیورسٹیاں، تحقیق اور روزگار یقیناً کراچی کی ضرورت ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے منصوبوں کی منصوبہ بندی میں مقامی آبادی کے حقوق اور زرعی زمین کے تحفظ کو کس حد تک یقینی بنایا جاتا ہے؟
اسی طرح ملیر اور گڈاپ میں بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے سٹی جیسے بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹس نے بھی زمین کے استعمال اور شہری پھیلاؤ کی نوعیت کو تبدیل کیا ہے۔ ان منصوبوں کے ساتھ سڑکیں، رہائشی اسکیمیں اور دیگر تعمیراتی سرگرمیاں آگے بڑھتی ہیں تو ان کے دائرۂ اثر میں آنے والی زرعی زمینیں، چراگاہیں اور قدیم گوٹھ بھی سوال بن جاتے ہیں۔
یہاں سوال ہاؤسنگ یا ترقی کی مخالفت کا نہیں۔ کراچی کو رہائش بھی چاہیے اور تعلیم بھی۔ سوال یہ ہے کہ ترقی کی قیمت ہمیشہ مقامی آبادی ہی کیوں ادا کرے؟
اگر کسی منصوبے کے نتیجے میں ایک مقامی خاندان اپنی زمین سے محروم ہوتا ہے، ایک گوٹھ اپنی تاریخی شناخت کھوتا ہے یا زرعی زمین شہری استعمال میں تبدیل ہوتی ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس کے حقوق، معاوضے، متبادل روزگار اور مستقبل کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
یہیں سے کراچی کے مقامی باشندوں کا سیاسی سوال بھی شروع ہوتا ہے۔
کراچی کے بلوچ اور سندھی باشندوں کی ایک بڑی تعداد تاریخی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ رہی ہے۔ یہ تعلق صرف ووٹ کا نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کا بھی رہا ہے۔ لیکن اگر کسی جماعت کو مقامی آبادی کا ووٹ حاصل ہے تو اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس آبادی کی زمین، شناخت اور وسائل کے تحفظ کو اپنی سیاسی ترجیحات میں شامل کرے۔
حالیہ دنوں ملیر کے منتخب نمائندوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہنماؤں کی جانب سے مقامی گوٹھوں، زرعی زمینوں اور قبرستانوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا اظہار ہوا۔ انتظامیہ سے بات چیت اور مقامی لوگوں کو سہولت دینے کی یقین دہانیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن مقامی آبادی کے ایک طبقے کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا صرف یقین دہانی کافی ہے یا اس کے لیے واضح قانونی اور عملی تحفظ ضروری ہے؟
جس شخص کی زمین خطرے میں ہو، اسے محض یہ یقین دلانا کافی نہیں کہ ’’ہم آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔ اسے یہ یقین چاہیے کہ اس کی زمین، گوٹھ، قبرستان اور ذریعہ معاش بھی محفوظ رہیں گے۔
یہاں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں سے بھی سوال بنتا ہے۔ کراچی کے بلوچوں کا بلوچستان کی سیاسی تحریکوں اور قوم پرست جماعتوں سے ایک تاریخی فکری تعلق رہا ہے۔ میر غوث بخش بزنجو کے دور سے لے کر آج تک کراچی کے بلوچوں کی بلوچستان کی سیاست سے مختلف نوعیت کی وابستگیاں رہی ہیں۔
لیکن جب کراچی کے بلوچ گوٹھ، زمین اور وسائل کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں تو بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی آواز اتنی نمایاں کیوں نہیں ہوتی؟
اسی طرح سندھ کی قوم پرست جماعتوں سے بھی سوال ہے کہ اگر وہ سندھ کے دوسرے اضلاع میں زمین، پانی، وسائل اور مقامی آبادی کے حقوق کے لیے احتجاج کرتی ہیں تو کراچی کے مقامی سندھی اور بلوچ باشندوں کے مسائل ان کے سیاسی ایجنڈے میں اتنی اہمیت کیوں نہیں رکھتے؟
اور یہ سوال پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی ہے، جو خود کو سندھ کی نمائندہ جماعت اور سندھ کے مفادات کی محافظ قرار دیتی ہے۔ اگر کراچی کے مقامی بلوچ اور سندھی بھی سندھ کی تاریخ، ثقافت اور آبادی کا حصہ ہیں تو ان کے زمین اور وسائل کے مسائل سندھ کے اجتماعی مسئلے کے طور پر کیوں نہیں دیکھے جاتے؟
کیا سیاست صرف انتخابی حلقوں میں رہنے والے ووٹروں کو خوش کرنے کا نام رہ گئی ہے؟
اگر سیاست کا مقصد صرف نشست حاصل کرنا ہے تو زمین، ماحول، تاریخ اور اجتماعی حقوق ثانوی ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر سیاست کا مقصد لوگوں کے اجتماعی مفادات کا تحفظ ہے تو کراچی کے مقامی باشندوں کا مسئلہ کسی ایک جماعت یا قوم کا نہیں بلکہ شہری انصاف کا مسئلہ ہے۔
کراچی کے مقامی باشندوں نے اس شہر کو صرف زمین نہیں دی؛ انہوں نے اپنی تاریخ، ثقافت، کھیت، ساحل، گوٹھ اور نسلوں کی یادیں دیں۔ اگر آج ان سے زمین بھی چھین لی جائے، گوٹھ بھی مٹا دیے جائیں، قبرستان بھی غیر محفوظ ہوجائیں اور سیاسی آواز بھی کمزور ہوجائے تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ کراچی کتنا ترقی کرگیا۔
اصل سوال یہ ہوگا کہ کراچی کی ترقی میں کراچی کے اصل باشندے کہاں کھڑے ہیں؟
دنیا میں قومیں صرف جنگوں سے ختم نہیں ہوتیں۔ کبھی زمین چھن جانے سے، کبھی گوٹھ کا نام بدل جانے سے، کبھی قبرستان کے غیر محفوظ ہوجانے سے، کبھی کھیت کے ہاؤسنگ منصوبے میں تبدیل ہوجانے سے اور کبھی ندی نالوں کے قدرتی نظام کے ختم ہوجانے سے بھی ایک قوم کی شناخت مٹتی ہے۔
اور پھر ایک وقت آتا ہے جب بستی تو باقی رہتی ہے، مگر یہ بتانے والا کوئی نہیں رہتا کہ اس جگہ کے اصل باشندے کون تھے۔
کراچی کے مقامی باشندوں کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے۔
ترقی ضرور ہو، مگر ایسی ترقی نہیں جس میں مقامی انسان ترقی کا حصہ بننے کے بجائے ترقی کی قیمت بن جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں