قلات میں ہیضہ کی وباءپھوٹ پڑی، متعدد بچے متاثر، غلزئی کے رہائشی دو بچے جان کی بازی ہار گئے

قلات(نمائندہ انتخاب) قلات میں ہیضہ کی وباءپھوٹ پڑی، مغلزئی کے رہائشی دو بچے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد بچے متاثر، متاثرہ بچے مزید علاج کیلئے کوئٹہ مستونگ اور خضدار کیلئے منتقل، دور جدید میں بھی قلات میں علاج کی سہولت نہ ہونے اور حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، مغلزئی سمیت قلات کے مختلف ایریا میں وباء کے خوف وجہ سے والدین پریشان، جانبحق بچوں میں مغلزئی کے رہائشی بچے بارہ سالہ امین اللہ ولد غلام مصطفی قوم لانگو اور تین سالہ محمد احمد ولد شبیر احمد قوم زہری شامل ہیں، عوامی حلقوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور اعلی تحقیقات کرنے کا مطالبہ، و محکمہ صحت کی ٹیمیں تشکیل دینے کا مطالبہ، دوسری جانب قلات میں ڈی ایچ او کی کئی مہینوں سے غیر موجودگی کئی سوالات جھنم لینے لگے، تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلات میں ہیضے کی وبائ پھوٹ پڑنے کے باعث متعدد افراد متاثر، جبکہ محلہ مغلزئی میں دو بچے جان سے گئے اور متعدد بچے وبائ سے شدید متاثر ہوچکے ہیں مقامی ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ بچوں کو علاج کیلئے کوئٹہ مستونگ اور خضدار منتقل کردیا گیا ہے موجودہ صورت حال سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں بڑی تعداد میں بچے ہیضہ اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، جبکہ بروقت طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قلات میں اس دور جدید میں بھی وبائ کو کنٹرول یا متاثرہ بچوں کی علاج نہ ہونے کے برابر ہے دوسری جانب عوامی حلقوں کا کہنا ہیکہ قلات میں کئی مہینوں سے محکمہ صحت کا منتظم اعلی DHO موجود نہیں جس سے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے علاقہ مکینوں نے محکمہ صحت کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مغلزئی سمجت ملحقہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر میڈیکل ٹیمیں روانہ کی جائیں، متاثرہ افراد کا طبی معائنہ اور علاج کیا جائے اور ادویات فراہم کی جائیں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وبائ پر قابو پانے کے لیے علاقے میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی، پانی کے نمونوں کی جانچ اور جراثیم کش اقدامات بھی کئے جائیں تاکہ مزید افراد کو بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان، محکمہ صحت کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ علاقے میں طبی کیمپ قائم کرکے عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ مزید قیمتیں جانیں ضائع ہونے سے بچایا جاسکیں

اپنا تبصرہ بھیجیں