ایران بارڈر کی بندش سے مکران کی معیشت مزید تباہی سے دوچار ہوگی، پالیسی ساز زمینی حقائق کا ادراک کریں، حاجی فدا حسین دشتی
کوئٹہ (بیورورپورٹ)چیمبر آف کامرس کوئٹہ کے سابق صدر اور سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کیچ حاجی فدا حسین دشتی نے ایران بارڈر کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان، بالخصوص مکران کو معاشی زوال اور پسماندگی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری جیسے مسائل نے عوام، تاجروں اور کاروباری طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔افغانستان بارڈر ایک سال سے زائد عرصے سے بند ہے، جبکہ ایران بارڈر بھی بند کیے جانے سے مکران کے عوام کے روزگار اور کاروبار کے اہم ذرائع متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت کی پالیسیاں اسی طرح جاری رہیں تو خطے میں معاشی مشکلات مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔ اسلام آباد میں بنائی جانے والی ایسی پالیسیوں پر نظرثانی ضروری ہے جو بلوچستان کے عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کر رہی ہیں۔ایران ایک برادر ہمسایہ ملک ہے اور اس کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات خراب کرنا پاکستان بالخصوص بلوچستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ سردیوں کی آمد کے پیش نظر ایل پی جی کی ضروریات پوری کرنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بارڈر کی بندش سے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور دیگر کاروباری حلقوں کا روزگار بھی متاثر ہوگا۔ بلوچستان میں بدامنی اور دہشت گردی کے نام پر پیدا ہونے والے حالات سے فائدہ اٹھانے والے عناصر بھی موجود ہیں، جن میں اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں ملوث افراد شامل ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کرے۔ آج نہ تاجر محفوظ ہیں، نہ عام شہری اور نہ ہی ٹرانسپورٹرز۔ ٹرانسپورٹرز کو چیک پوسٹوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ کوسٹل ہائی وے پر سرعام چیک پوسٹوں پر تیل اتارنے کے معاملات بھی باعث تشویش ہیں، مگر اس حوالے سے کوئی مو¿ثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کے زمینی حقائق، عوام کی معاشی مشکلات اور خطے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کریں۔ بلوچستان پہلے ہی بدامنی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں مزید پابندیاں حالات کو سنگین بنا سکتی ہیں۔ ملک آئین اور قانون کی بالادستی سے چلتے ہیں، لہٰذا عوام کے حقوق، روزگار اور معاشی تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔


