حوثیوں کے ایک غیرقانونی حراستی کیمپ میں آتش زدگی سے 30درجنوں افراد ہلاک

صنعاء:مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم نے بتایا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا کی طرف سے قائم کردہ ایک غیرقانونی حراستی کیمپ میں آتش زدگی کے نتیجے میں 30 تارکین وطن ہلاک اور170 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کیمپ کے حفاظتی عملے کے افراد بھی شامل ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق تنظیم برائے بہبود مہاجرین کی طرف سے ٹویٹر پر جاری کردہ متعدد ٹویٹس میں بتایا گیا کہ آتش زدگی سے حراسی کیمپ میں کم سے کم 30افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ مجموعی طور پر 170 سے زاید افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان میں سے 90 کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حراستی کیمپ میں آتش زدگی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ٹویٹس میں کہا گیا کہ حراستی کیمپ میں آتش زدگی کے اس واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ آتش زدگی یمن میں جاری بحران کی مختلف شکلوں میں سے ایک خوفناک شکل جس کا یمن میں موجود غیرملکی تارکین وطن کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ادھر یمن فیوچرپلیٹ فارم کی طرف سے جاری ایک خبر میں بتایا گیا کہ حراستی کیمپ میں کم سے کم 30 افریقی تارکین وطن جھلس کرہلاک ہوئے۔ آتش زدگی سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 170 ہے جن میں سے 90 کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔ادھر حوثی ملیشیا کی طرف سے اس حادثے کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ آتش زدگی غیرقانونی تارکین وطن کو رکھنے کے لیے قائم کردہ ایک کیمپ میں ہوئی جس کے نتیجے میں ایمی گریشن کے حکام اور حفاظتی عملے سمیت متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں