میانمار،مزید ہلاکتیں،دو اضلاع میں مارشل لا نافذ
ینگون:جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر اتوار کے روز سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں مزید ہلاکتوں کے بعد فوج نے دو اضلاع میں مارشل لا نافذ کر دیا ہے۔
میانمار کے مرکزی شہر ینگو ن کے دو اضلاع میں اتوار کے روز جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مزید اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ جس کے بعد گزشتہ چھ ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری فوج مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا ً ایک سو ہوگئی ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار کی رات فائرنگ کے واقعے کے بعد ملک کے سب سے بڑے شہر ینگو ن کے دو اضلاع ہلینگ تھریار اور شویپیتھا میں فوجی جنتا نے مارشل لا نافذ کردیا۔
مارشل لا کے نفاذ کے بعد فوج کو مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مزید اختیارات مل جائیں گے۔ اس سے قبل اتوار کے روز ہونے والے مظاہروں کے خلاف فوجی کارروائی میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے۔
ایک عینی شاہد کیاو سوار نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ ”کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے لیکن لوگ احتجاج کرنے سے نہیں رکیں گے اور فوج بھی ان کے خلاف کارروائی کرتی رہے گی۔“
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز پر فوج کی طرف سے میانمار کی سویلین رہنما آنگ سان سوچی کی گرفتاری کے بعد سے ملک میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
پیر یکم فروری 2021ء کے روز میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور آنگ سان سوچی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ یہ اقدام جمہوری حکومت اور فوج میں کشیدگی کے بڑھنے کے بعد سامنے آئے۔ میانمارکی فوج نے گزشتہ نومبر کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک برس کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا اور سابق فوجی جنرل کو صدر کے لیے نامزد کر دیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ فوجی جنتا طاقت کا استعمال کرنے کے علاوہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی کر رہی ہے۔
ایک اور غیر سرکاری تنظیم اسسٹینس ایسوسی ایشن فار پالیٹیکل پریزنرز(اے اے پی پی) کا کہنا ہے کہ اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
میانمار میں فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ نومبر کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی تھی جس کی وجہ سے اس نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔
یکم فروری کو حکومت کا تختہ پلٹ دینے کے بعد فوج نے نوبل امن انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔ اس کے بعد سے فوج نے گزشتہ پانچ ہفتوں سے انہیں کسی نامعلوم مقام پر رکھا ہوا ہے۔
فوج نے سوچی پر رشوت خوری کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان پر واکی ٹاکی ریڈیو غیر قانونی طریقے سے درآمد کرنے اور کورونا وائرس پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
عالمی برادری نے سوچی پر مسلم روہنگیا اقلیتوں پر ہونے والے حکومتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے میں ناکام رہنے کے لیے بھی نکتہ چینی کی تھی۔سوچی آج پیر کے روز عدالت میں پیش ہونے والی ہیں۔


