رمضان المبارک: متحدہ عرب امارات نے نئے اقدامات کا اعلان کردیا
دبئی:مضان المبارک میں عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے بچا اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات نے نئے اقدامات کا اعلان کردیا ہے اعلان نیشنل ایمرجنسی کرائسس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یو اے ای کی جانب سے کیا گیا ہے۔ماہ مقدس رمضان المبارک کے دوران افطار و سحر میں کئی مقامات پر اجتماعی تقاریب منعقد ہوتی ہیں اور بطور خاص مساجد میں مسلمان اجتماعی طور پر عبادات کا اہتمام بھی کرتے ہیں این سی ای ایم اے کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغامات میں بتایا گیا ہے کہ ہر ایک کو خاندانی اجتماعات منعقد کرنے اوراس میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے اس ضمن میں یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ خاندان کے باہر کے افراد سے کھانے کے تبادلے سے بھی گریز کا راستہ اختیار کریں۔این سی ای ایم اے نے اپنے واضح پیغامات میں کہا ہے کہ رمضان المبارک میں شب کے اجتماعات سے گریز کریں، ایک دوسرے کے گھر جانے سے اجتناب برتیں اور کھانوں کا تبادلہ یا ان کی تقسیم نہ کریں اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد مشترکہ طور پر کھانوں کا اہتمام کرسکتے ہیں. متحدہ عرب امارات میں متعلقہ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ مزدوروں کی اقامت گاہوں میں رمضان کے دوران کھانے تقسیم کیے جا سکتے ہیں لیکن جولوگ ورکروں میں کھانا تقسیم کرنا چاہتے ہیں انھیں ان اقامت گاہوں کی انتظامیہ سے رجوع کرنا چاہیے اور کسی ریستوراں کے ذریعے کھانے کے پیکٹس تقسیم کرنے چاہئیں۔این سی ای ایم اے کے مطابق مساجد میں نمازعشا اور تراویح کو زیادہ سے زیادہ تیس منٹ میں ختم کرنا ہوگا نماز کی ادائیگی کے فوری بعد مساجد کو بند کردیا جائے گا خواتین کے لیے نماز کی مخصوص جگہیں و دیگر سہولتیں اور مساجد کے باہر شاہراہوں پر نماز تراویح ادا کرنے پر بدستور پابندی برقرار رہے گی. یو اے ای کی متعلقہ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ نئی پابندیوں اور ہدایات کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ماہ صیام کے دوران حکام چھاپہ مار کارروائیوں کی مہم چلائیں گے اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد و اداروں کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کی جائے گی


