ہنہ اوڑک کے عوام اور قبائل نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرکے حب الوطنی کی مثال قائم کی، علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن شروع کردیا، مظاہرین سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی، وزیراعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان اور ہنہ اوڑک کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس، امن کی بحالی کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری، ہنہ اڑڑک اور گردونواح میں دہشت گردوں کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی، مظاہرین سے بات چیت کے لیے وزیر داخلہ ضیاءاللہ لانگو اور صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ مذاکراتی کمیٹی مظاہرین، قبائلی عمائدین، منتخب نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے فوری رابطہ کرے گی۔ شورش زدہ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے فوری طور پر جوائنٹ چیک پوسٹ قائم کرنے کا بھی فیصلہ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جوائنٹ چیک پوسٹ آج سے فعال ہوگی، تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر سیکورٹی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہنہ اوڑک کے افسوسناک واقعے کے ذمہ دار دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی منطقی انجام تک جاری رہے گی، ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ شہداءکے لواحقین اور متاثرین کو آئندہ دو روز میں مالی معاونت اور معاوضوں کی ادائیگی کا عمل شروع کی جائے گی۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، مظاہرین کے تحفظات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ہنہ اوڑک کے عوام اور قبائل نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کر کے حب الوطنی اور جرات کی روشن مثال قائم کی ہے۔ دہشت گردی پورے بلوچستان اور پاکستان کا مشترکہ چیلنج ہے، اس کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، امن کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔


