کوئٹہ، گاڑی شورومز کا فٹ پاتھوں پر راج، حکومت کے احکامات کچرے کے ڈبے کی نظر

کوئٹہ:ضلعی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث کوئٹہ شہر سے گاڑیوں کے شورومزکوباہر منتقل نہیں کیاجاسکا جس کی وجہ سے شہر میں بدترین ٹریفک جام کامسئلہ شدت اختیارکرگیا ہے رش کے سبب صبح اورشام شہر کی وسطی شاہراہیں بلاک ہوجاتے ہیں اورلوگوں کاپیدل گزرنابھی محال ہوجاتا ہے معمولی تکرارپرشورومز مافیا لوگوں سے تلخ کلامی کرکے لڑنے جھگڑنے پرآمادہ ہوجاتے ہیں متعلقہ حکام کسی بھی کارروائی سے گریزاں ہوخاموش تماشاہی بن چکے ہیں جس سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے عوامی حلقوں نے حکام بالاسے شورومزکوشہر سے باہرمنتقل کرنے کیلئے ہدایات پرسختی سے عملدرآمدنوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے یٹ روڈ،شاہراہ عدالت، ٹیکسی اسٹینڈ، فاطمہ جناح روڈ اوردیگرشاہراہوں پرشورومزمافیا کاراج ہے جہاں پرشوروم مالکان مین روڈ پرصبح سے شام تک اپنی گاڑیاں پارک کرکے پورے روڈکودیگرگاڑیوں کے لئے بندکردیتے ہیں جس کی وجہ شہر میں ٹریفک کاگھمبیرہوتاجارہا ہے ٹریفک پولیس حکام اورضلعی انتظامیہ سمیت کوئی بھی پوچھنے والانہیں ہے، مسجدروڈسے جناح روڈسے اورلیاقت بازاروملحقہ گلیوں سے شہر کارخ کرنے والی گاڑیوں پھنس جاتی ہیں اورجناح روڈسے ٹیکسی اسٹینڈ، انسکمب روڈ، سول ہسپتال سے امدادچوک تک سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، اسکول کالج اوردفاتر ٹائمنک کیساتھ ساتھ صبح اورشام کے اوقات میں عام روٹین میں بھی یٹ روڈ،مسجدروڈ،کارنرفاطمہ جناح روڈاورتمام ملحقہ شاہراہیں اورگلیوں میں اس قدربدترین ٹریفک جام ہوجاتی ہے کہ خواتین ودیگر افراد کاپیدل چلنابھی محال ہوجاتا ہے اورلوگ طویل انتظارکرنے پر مجبورہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں شدیدمشکلات درپیش ہیں۔عوامی حلقوں نے بتایاکہ ضلعی انتظامیہ اورٹریفک پولیس حکام شورومز مافیا کے خلاف کسی بھی کارروائی سے گریزاں ہیں اورعدالتی احکامات کے باوجوداب تک شورومزکوشہر سے باہرمنتقل نہیں کیاجاسکا جومتعلقہ حکام کی مبینہ غفلت کاثبوت ہے انہوں نے بتایاکہ فوٹوسیشن کے لئے ضلعی انتظامیہ وقتی طورپر کارروائی کرکے شورومزکوسیل توکرتی ہے تاہم چنددن بعدیہ دوبارہ کھول دیئے جاتے ہیں جوتشویشناک ہے، انہوں نے حکام بالاسے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ حکام کی ہدایات پرسختی سے عملدرآمدکرتے ہوئے گاڑیوں کے شورومزشہر سے باہرمنتقل کئے جائیں تاکہ ان کی مشکلات کاازالہ ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں