قلعہ سیف اللہ حادثہ پر افسوس،تعصب پرست نواب حادثات پر سیاست کررہاہے، لہڑی ہاؤس
کوئٹہ:ترجمان لہڑی ہاؤس نے قلعہ سیف اللہ کے مقام پر کوچ حادثے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں ٹریفک حادثات میں اضافے کی وجہ سنگل روڈ ہیں مگر بدقسمتی سے قلعہ سیف اللہ میں ایک تعصب پرست نواب ان حادثات کو اپنے سیاسی دکانداری کے لئے استعمال کر رہا ہے گزشتہ ماہ سدابہار کمپنی کے ایک کوچ کو حادثے کی وجہ سے اسی تعصب پرست نواب نے نزر آتش کردیا تھا کیونکہ وہ گاڑی ایک بلوچ کی ملکیت تھی آج جو حادثہ ہوا ہے اس میں بھی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ہیں ہمیں افسوس ہے مگر اس ڈائیوو کوچ کو کیوں نظر آتش نہیں کیا گیا, کیا اس حادثے میں مرنے والے لوگ انسان نہیں تھے کیا یہ انسان نہیں تھے کیا تعصب پرست نواب کو یہ سب نظر نہیں آیا، قلعہ سیف اللہ کا تعصب پرست نواب کو صرف بلوچ قوم سے چڑ ہے وہ ہمیں برداشت نہیں کرتے ہیں کہ بلوچ قوم ان کے علاقوں میں کاروبار کرے، نواب کسی ایک قوم یا قبیلے کا نواب نہیں ہوتا ہے وہ تمام اقوام کا نواب کہلاتا ہے ان کے لئے تمام اقوام برابر ہیں کوئی اوپر نیچے نہیں ہے آج ٹریفک حادثے کی صورت میں بس کو نزر آتش نہ کرنے کی وجہ بھی یہی تھا کہ وہ ایک تنگ نظر اور تعصب پرست نواب ہے آج سپر میختر ڈائیوو کو نزر آتش نہ کرنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ ہمیں برداشت نہیں کرتے ہیں اور سپر میختر کوچ کسی پشتون قبیلے کی ملکیت ہے اسی لئے تعصب پرست نواب نے بس کو نزر آتش نہیں کیا، سدابہار ڈائیوو کو نزر آتش کرنے کے وقت تو انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ قلعہ سیف اللہ میں ہر ایکسیڈنٹ کرنے والے کوچ کو نزر آتش کیا جائے گا مگر آج اس بات سے ثابت ہوگیا کہ تنگ نظر تعصب پرست نواب کو بلوچ قوم فوبیا ہوچکے ہیں ہم نے تو شروع دن سے ہی یہی کہا تھا کہ ہماری گاڑی کو تعصب اور بلوچ ملکیت ہونے کی وجہ سے نزد آتش کیا ہے مگر ہماری بات پر کسی نے توجہ نہیں دیا آج سپر میختر کوچ کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوا کیونکہ وہ ایک پشتون قبیلے کی گاڑی ہے ہم کسی کمپنی کے خلاف نہیں ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہر شخص ہمارے لئے قابل احترام ہیں مگر یہ دوغلا پالیسی اور تعصب پرستی ہمیں قبول نہیں ہے بلوچستان میں ایسے نام نہاد تعصب پرست نوابوں کی وجہ سے قبائلی رنجشوں کے خاتمے کی بجائے ان میں اضافہ ہورہا ہے سیاست میں ناکامی کے باعث علاقے کی عوام کو ورغلا کر اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے بلوچ پشتون روایات کو مسخ کرکے سدابہار کمپنی کے کوچ کو نزر آتش کیا گیا جو کہ ایک بزدلانہ فعل تھا عوام ایسے نام نہاد نوابوں کو اچھی طرح سمجھ لیں کیونکہ ان کے قول و فعل عوام کو تباہ و برباد کرنے پیچھے ہے بلوچستان کے ہر گلی سے کسی پشتون قبیلے کا کوچ گزرتا ہے مگر ہمارے بڑوں نے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرنا، اور ہمارے بڑے ہمیں سختی سے حکم دیتے ہیں کہ ہمشیہ دوسروں کا محافظ بنا مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں ایسے نام نہاد تعصب پرست نواب بھی موجود ہے جو روایات سے ہٹ کر بزدلانہ فعل کروانے میں پیش پیش ہیں


