سرداراخترجان مینگل کے نام کھلاخط۔

سرداراخترجان مینگل کے نام کھلاخط۔
قابل صدمحترم سردارصاحب السلام علیکم۔تہہ دل سے آپکی سلامتی کے لئے دعاگوہوں۔قائدمحترم آپ سے بہترکون جانتاہے کہ ملک باالخصوص بلوچستان کن کربناک حالات سے گزررہاہے۔سردارصاحب آپ کوبخوبی علم ہے کہ پچھلے الیکشن میں بلوچستان کے عوام نے آپ کی ولولہ انگیزقیادت اور پارٹی کی تاریخی قربانیوں کو مدنظررکھ کرتمام ترسختیوں،دھمکیوں،لالچ اور ذاتی مفادات کوٹھوکرمارکر پارٹی پربھرپوراعتماد کا اظہارکیا۔اورآپ کی آواز پرلبیک کہتے ہوئے ان امیدواروں کو کامیاب بنایا۔لیکن قائدمحترم نہایت دکھ اور افسوس سے کہناپڑتاہے کہ ان کی اکثریت پارلیمنٹ کی،،رنگ رنگیوں،،میں اس قدر کھوگئے ہیں کہ عوام کے ووٹ اور قربانیوں کوبھول چکی ہے۔آج اگرچہ کورونانے ساری دنیاسمیت پاکستان کوبھی اپنے خونی پنجوں میں جکھڑلیاہے۔مگربلوچستان پہلے ہی سے کوروناسے زیادہ کئی دیگرخطرناک وائرس مثلا بھوک، غربت،قبائلی دشمنی،فرقہ واریت،روڈایکسیڈنٹ،بم دھماکوں وغیرہ کا شکارہے۔یقین کیجئے ہم قطعا کوروناسے نہیں ڈرتے بلکہ اندرون بلوچستان کے لوگوں کی اکثریت کوروناکو جانتی ہی نہیں۔ہاں یہ لوگ صرف اتناجانتے ہیں کہ کورونانے ان کی بھوک اور افلاس کو آخری حدتک پہنچایاہے۔آپ کے علم میں ہوگا کہ دو دن میں صحبت پوراور جھٹ پٹ میں دو غریب اور دیہاڑی دار مزدوروں نے اپنے معصوم بچوں کو بھوک سے بلکتے اور روتے دیکھ کر خود کشی کی۔اور ایک نے خودسوزی کرکے شدیدجھلس گیااورلاڑکانہ کے اسپتال میں زندگی اورموت کی کشمکش میں مبتلاہے۔سردارصاحب جس عوام کی خوشحالی کے لئے آپ نے چھ نکات پیش کئے۔وہ سیندک،ریکوڈک،گوادر ساحل و وسائل کو بھول چکے ہیں۔بس ان کی اب ایک ہی خواہش ہے کہ اپنے بھوکے پیاسے معصوم بچوں کی چیخ سننے کی مزید سکت نہیں رکھ سکتے۔اور اس کا ایک ہی حل نکال رہے ہیں خود کشی اور خودسوزی۔ہاں سیندک اور ریکوڈک سے یاد آیا کہ آپ کی پارٹی کارخشان سے ایم۔این۔اے اسلام آباد میں قرنطینہ میں بیٹھ کراتنابے خبرہے کہ اس کے حلقہ انتخاب تفتان سے داخل ہونے والے خونی کوروناملک میں موت کی تباہی پھیلارہا ہے۔اور تفتان کے عوام کس قیامت سے گزررہے ہیں آپ موصوف سے اتناپوچھ لیں کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود وہ ابھی تک تفتان کیوں نہیں پہنچ سکا؟؟پاک ایران بارڈر بند۔کاروبار بند دکانیں بندہوٹل بند حمام بند درزی بند موچی بند سب کچھ بند سرکار کی جانب سے ایک ماہ سے کچھ بھی نہیں۔
محترم قائد۔ پارٹی کاواحد سینیٹرجواسلام آباد میں ہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اور پارٹی پروگراموں میں خوب دھواں دھار بھاشن دیتے ہیں۔میرگل خان نصیر کے اشعار،،ماپہ وطن دیوانگے،،کا ہرجلسے میں راگ الاپتے ہیں۔پلیز ان سے پوچھئے گا کہ اسی گل خان نصیرچوک پرجہاں آپ ہمیشہ،،بزگیں مخلوق،،کہہ کرجلسوں سے خطاب کرتے ہیں۔اب آکردیکھو ڈاکٹرصاحب صبح کتنے دیہاڑی دار مزدور اس آسرے پر کھڑے ہوتے ہیں کہ آج مزدوری مل جائے شام کو بچے بھوکے نہیں سوئیں گے۔اور پولیس ان پر ڈنڈا برساتی ہے کہ منتشرہوجاو کورونا پھیل جائیگا۔شام کو وہی مزدور خالی ہاتھ اورشرمندہ گھرلوٹتا ہےیہ سوچ کر کہ اب بچوں کوکیاکھلاونگا۔ دھواں دار خطاب کرنے والے ڈاکٹرصاحب آکر ان کی حالت تو پوچھ لو۔نہ قومی اسمبلی کااجلاس نہ سینیٹ کا پھر پارٹی کے ایم۔این۔ایز اور سینیٹرز صاحب کب ،،قرنطینہ،،سے نکل کر اپنے حلقوں میں آئیں گے؟جناب یہی حال سوائے محترم احمد نواز صاحب اور ایک دو دیگرمرد و خواتین ایم۔پی۔ایز کے سب کا ہے۔خصوصارخشان کے ایم۔پی۔ایز ایم۔این۔اے سے تو عوام اس قدر نالاں ہیں کہ اسکی حد ہی نہیں۔عوام انھیں دور بین کیا خورد بین سے بھی نہیں دیکھ سکتے۔
یقین کیجئے پارٹی کے جن سرگرم اور ہمیشہ قربانی دینے والے نظریاتی کارکنوں سے جب عوام پوچھتےہیں کہ کہاں ہیں وہ نمائندے جن کو ہم نے ووٹ دیا؟؟کیا وہ اب بھوکامرنے کے بعد ہماری تعزیت کے لئے آئیں گے؟؟کارکنوں کے پاس شرمندگی اور چپ کے سوا کچھ بھی جواب دینے کیلئے نہیں۔سردار صاحب آپ خود اپنے زرائع سے سروے کریں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔عوام کو معلوم ہے کہ یہ عوامی نمائندے ان کو کچھ نہیں دے سکتے۔لیکن کم از کم یہ نمائندے اپنے حلقوں میں عوام کے درمیان موجود تو رہیں۔یہ اسپتال کادورہ کریں۔یہ انتظامیہ سے پوچھ تو لیں کہ بھئ عوام کے لئے کیاکررہے ہو؟؟اور کچھ نہیں ہوگا کم از کم عوام اور کارکن کسی حد تک مطمئن ہوجائیں گے کہ قائد بلوچستان کے کہنے پرہم نے جن کو ووٹ دیا وہ ہماری خوشی اور غم میں ہمارے ساتھ ہیں, جناب سردار صاحب۔خدا کی قسم حالات تصورسے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔بھوک اورافلاس نے چاروں طرف سے ڈیرہ ڈالاہے۔واحد راستہ موت یا خودسوزی ہے۔یقین کیجئے ماوں،بہنوں،جوانوں،بزرگوں کی امیدیں آپ سے وابستہ ہیں۔آپ کے کہنے پر ان کو ووٹ دیاتھا۔کیاجالب شہید،اور دیگرنے ان کو ممبرپارلیمنٹ بننے کے لئے جانوں کی قربانی دی ؟حتی کہ آپ جیسے قومی رہنماکے چہرے پرنقاب ڈال کر اور پنجروں اوربکتربندگاڑیوں میں بند کرکے عدالتوں میں گسیٹھنے کو یہ بھول گئے؟۔آپ اس سخت ترین آزمائش میں اپنا قائدانہ کردار اداکریں۔آپ کوئٹہ اور اسلام آبادمیں قرنطینہ میں بیٹھے گمشدہ ایم۔پی۔ایز،ایم۔این۔ایز اور سینیٹر کو حکم دیں کہ فوری طور پر اپنے اپنے حلقوں میں پہنچیں اور اس شدید مصیبت میں مبتلا اپنے عوام کا سہارا بنیں۔
منت وار سردارصاحب۔
پروفیسرغلام دستگیرصابر

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply