دو ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے و پنشن کی عدم ادائیگی کیخلاف واسا ملازمین کا احتجاج
کوئٹہ: دو ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پنشن کی عدم ادائیگی اوور ٹائم بند ہونے کیخلاف واسا ملازمین سراپا احتجاج۔ واسا ہیڈ آفس میں شدید احتجاجی مظاہرہ واسا انتظامیہ بلوچستان حکومت سے تنخواہیں اوورٹائم کی فیری ادائیگی کیلئے شدید نعرے بازی یکم جولائی 2021 بروز جمعرات واسا ہیڈ آفس سے ریلی نکالنے اور ایدھی چوک پر تنخواہوں اوور ٹائم پنشن کیلئے دھرنے و احتجاج کا اعلان تفصیلات کے مطابق بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان عابد بٹ عارف نچاری سعد اللہ محمد عمر جتک کی قیادت میں محکمہ واسا کے سینکڑوں ملازمین و مزدوروں نے واسا ہیڈ آفس میں دوماہ سے تنخواہیں ادا نہ ہونے پنشن و اوور ٹائم کی بندش کیخلاف شدید احتجاج کیا اور حکومت بلوچستان سیکرٹری فنانس واسا انتظامیہ سے تنخواہیں اور دیگر واجبات کی غیری ادائیگی کا مطالبہ کیا اور حکومت کے مزدور دشمن اقدام ملازمین کے معاشی قتل کیخلاف نعرے بازی کی گئی اس موقع جلسے سے بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان مرکزی سیکرٹری عابد بٹ محمد عمر جتک عارف خان نچاری حاجی سعد اللہ نے خطاب کیا۔ خان زمان نے کہا کہ بلوچستان حکومت تمام فعال اداروں کو تباہ کرنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ محکمہ واسا کوئٹہ شہر کے عوامی مفاد عامہ کا اہم ادارہ ہے اسکے ملازمین کو تنخواہوں کی دوما ادائیگی نہ ہونا حکومت اور اداروں کی نااہلی ہے۔ جان بوجھ کر ایسا ماحول بنایا گیا کہ واسا کے محنت کشوں کو دو ماہ تنخواہیں پنشن اور بارہ ماہ سے اوورٹائم بند کیا گیا کہ واسا کے مزدور و ملازمین اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلیں۔ او ر تو اور حکومت بلوچستان نے محکمہ واسا کے فنڈز بھی روک دیئے جسکی وجہ سے ٹیوب ویل بند ہوگئے شہر حکومت اور واسا انتظامیہ کی نا اہلی سے کربلا بن گیا شہری محکمہ واسا کے غریب مزدوروں سے الجھ رہے ہیں جبکہ واسا کے غریب ملازمین و مزدوروں کا دو ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر گھر کا چولہا بند ہو چکاہے۔ واسا کے محنت کشوں کے بچے فاقوں پر مجبور ہیں مزدور کے بچے بنیادی خوراک صحت تعلیم اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔اس تمام تر صورتحال نا انصافی واسا کے مزدوروں کے معاشی قتل جبری استحصال مزدوروں کو فاقوں سے دوچار کرنے کی ذمہ دار موجودہ صوبائی حکومت اسکے نااہل وزرا اور انتظامی ادارے ہیں صو بائی وزیر واسا نے تین سال میں ایک مرتبہ ملازمین و مزدوروں کو تنخواہیں پنشن اوور ٹائم نہ ملنے پر دو لفظ نہیں کئے بلوچستان کے مزدوروں و ملازمین پر ناہل افراد مسلط ہیں بلوچستان لیبر فیڈریشن واسا سمیت کسی ادارے کے محنت کشوں و ملازمین کا استحصال برداشت نہیں کرے گی تنخواہیں پنشن واجبات ادا کرنا حگومت اور اسکے ماتحت اداروں کی ذمہ داری مگر نا اہلی کی انتہا ہے کو واسا کے مزدوروں کو مسائل کی دلدل میں جھونک دیا گیا جس سے مزدوروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات جائز ہیں کسی حکومت وادارے کو مزدوروں کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دینگے واسا کے مزدور ملازمین محنت کش اور واسا ایمپلائز یونین بھر پور رابطے کرے یکم جولائی بروز جمعرات گیارہ بجے واسا ہیڈ آفس میں جمع ہوجائیں تنخواہوں بندش پنشن اوور ٹائم ادا نہ ہونے و دیگر جائز مسائل کے حل کیلئے بھر پور ریلی نکالی جائے گی۔ اور ایدھی چوک پر پر امن احتجاج کرکے بلوچستان حکومت محکمہ فنانس اور واسا انتظامیہ سے مسائل کرنے کیلئے بھر پور آواز بلند کی جائے گی۔ آخر میں واسا ایمپلائز یونین کے جنرل سیکرٹری عارف خان نچاری نے جاری تحریک کے حوالے سے اعلانات کئے اور واسا مزدوروں و ملازمین کو یکم جولائی کے احتجاجی پروگرام کے حوالے سی ہدایات دیں جس کے بعد مزدور و ملازمین دوبارہ اپنے ٹیوب ویلز اور سب ڈویژن دفاتر چلے گئے۔


