کوئٹہ،متحدہ اپوزیشن کا مذاکرات کی مسلسل ناکامی پر تھانے میں پانچویں دن بھی پڑاؤ
کوئٹہ: متحدہ اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کا رضاکارانہ گرفتاری پیش کیلئے بجلی گھر تھانے میں مذاکرات کی مسلسل ناکامی پرپانچویں دن بھی پڑاؤ مختلف سیاسی،مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے تھانے میں اپوزیشن ارکان سے اظہار یکجہتی کی، ایف آئی آر میں نامزد ارکان اسمبلی کااصرار ہے کہ حکومت اپوزیشن ارکان کوگرفتار کرے یا بوگس مقدمہ ختم کرے تاہم 5دن گزرجانے کے باوجود اراکین اسمبلی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔جمعہ کے روز بلوچستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بجٹ اجلاس کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی پر اپوزیشن کے خلاف درج مقدمہ پر رضاکارانہ طورپر بجلی گھر روڈ تھانے میں گرفتاری کیلئے گئے تاہم تین روز گزر جانے کے باوجود بھی اپوزیشن ارکان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی،اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال،صوبائی وزرا میر ضیا اللہ لانگو،میر عارف جان محمد حسنی،میر سلیم احمد کھوسہ کی جانب سے مسلسل تین بار مذاکرات کئے گئے تاہم اپوزیشن کی جانب سے اصرار ہے کہ حکومت یا تو ایف آئی آر پر کارروائی عمل میں لائیں یا پھر بوگس ایف آئی آر ختم کرے۔واضح رہے کہ کوئٹہ پولیس نے بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان کے خلاف 17مختلف دفعات ے تحت مقدمہ درج کرلیاتھا۔ایف آئی آر میں بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، احمد نواز، اخترحسین لانگو، ثنا بلوچ، شکیلہ دہوار، واحد صدیقی، حمل کلمتی، عزیز اللہ آغا، ملک نصیر احمدشاہوانی، نصر اللہ زہرے، زابد ریکی،اکبر مینگل، اصغر ترین، حاجی نواز کاکڑ، مکھی شام لعل، بابو رحیم مینگل اورمولوی نور اللہ کونامزد کیاگیاہے،مقدمے میں 324،337D،337F،504،188،147،506B،147،149،353،186،341،34, 269M،270،268،427 کی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔ ایف آر کے متن میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن ارکان سمیت 200 سے250 بلوائیوں نے راستے میں کیمپ لگا ررکاوٹ پیدا کی اور لاؤڈاسپیکر سے اعلانات کیے گئے کہ کسی بھی طرح بجٹ اجلاس کو روک کر اسمبلی کا گھیرا ؤکرنا ہے،بعد ازاں ان افراد نے اسمبلی کے گیٹ بند رکھے اور پولیس کو دھکا دینا شروع کردیا، تاہم پولیس نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن عامہ و برقرار رکھنے کی کوشش کی۔تمام ارکان نے رات تھانے میں گزاری،گرفتاری کی پیشکش کے باوجود انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمات انکوائری کے مراحل میں ہیں، بغیر ثبوت کسی کو گرفتار نہیں کیاجاسکتا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اراکین اسمبلی کو گرفتار نہیں کررہی ہے جب کہ اپوزیشن اراکین تھانے سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔


