کوہلو، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ٹراما سینٹرعرصہ 4سال سے فعالیت کا منتظر

کوہلو:حکومت بلوچستان نے مریضوں اور ایمرجنسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہلو میں ٹراما سینٹر کے قیام کی منظوری دی تھی جس کی تعمیر ومرمت 2018میں ایک سال کے قلیل مدت میں مکمل ہوا۔ مگر اس کے بعد بلوچستان کی حکومت جو شعبہ صحت میں گزشتہ ڈھائی سال کے عرصے میں انقلابی تبدیلوں کا دعوی کرتی نظر آتی ہے وہی ضلع کوہلو کے ٹراما سینٹر کو فعال ہونے میں 4سال کا عرصہ بیت گیا ہے جس سے 2کروڑ روپے کی خطیر رقم سے تعمیر ہونے وا لے ٹراما سینٹر کئی سالوں سے صوبائی حکومت کے نمائندوں کے توجہ کا منتظر ہے جبکہ باوثوق ذرائع کے مطابق ٹراما سینٹر کے تعمیر ومرمت کے بعد تاحال فرنیچر،اے سی سمیت بنیادی سامان کی فراہمی یقینی نہیں ہوسکا ہے منصوبے کے بقایا پیسے بندر بانٹ کی نظر ہوگئے۔اس وقت اس منصوبے سے مریضوں کے سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹراما سینٹر کو فعال ہونے میں اسٹاف،جدہد میشنری اور میڈیسن کی فراہمی ناگزیر ہے ضلع میں ٹراما سینٹر فعال نہ ہونے سے حادثات،آگ میں جھلسنے اور دیگر مختلف واقعات کے مریضوں کو اہسپتال میں بنیادی طیبی امداد کے بعد ملتان اور ڈی جی خان ریفر کیا جاتاہے جہاں کئی گھنٹوں کے طویل سفر کی وجہ سے پہلے سے تکلف زدہ مریضوں کی جان نکلنامعمول بن گیاہے ڈھائی لاکھ سے زائد نفوس کی آبادی پر مشتمل ضلع کے لئے ٹراما سینٹر کا فعال ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ اس حوالے سے گزشتہ کئی سالوں سے احسانی محکمہ صحت بلوچستان کو بھیجی جاتی رہی ہے مگر مجال ہے کہ حکومت نے عملے اورمیڈیسن کی منظوری کے لئے کمر کس لی ہو۔ جس کی وجہ سے ضلع کا واحدٹراما سینٹر بلڈنگ کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ٹراما سینٹر فعال نہ ہونے سے نہ صرف مریضوں کو مشکلات درپیش ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال کے عملے کو بھی کئی ایک مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ جو سہولیات، آلات اور مشینری ٹراما سینٹر میں موجود ہوتے ہیں وہ ہسپتال میں عمومی طور پر موجود نہیں ہیں ٹراما سینٹر کے لئے اپنا ڈائریکٹر ٹراما سینٹر جبکہ سرجنز،نیروسرجن،ایڈمین آفیسر،سٹاف نرس،میل و فیمیل میڈیکل فیسرز،آرتھوپیڈک، اسسٹنٹ سمیت 20سے زائد مختلف شعبوں میں 90افراد پر مشتمل میڈیکل عملے نے بھرتی ہونا ہے مگر صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر ضروری عملہ، ادویات ا ور مشینری فراہم کرکے بھی ٹراما سینٹر کو فعال کرسکتے ہیں ضلع کے واحد ٹراما سینٹر کی کئی عرصوں سے غیر فعالی پر کوہلو کے عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ صحت کا قلمدان اس وقت صوبے کے وزیر اعلی جام کمال کے پاس ہے مگر بلوچستان کی صوبائی حکومت کو چائیے کہ اب زبانی دعوں سے ہٹ کر عملی اقدامات کرئے تاکہ لوگوں کو صحت کے بنیادی سہولیات ان کے دہلیز پر میسر ہوسکیں وزیر اعلی بلوچستان جام کما ل خان،سیکرٹری صحت بلوچستان سے مطالبہ ہے کہ ضلع کے ٹراما سینٹر کو فوی عملہ اور ادویات فراہم کی جائیں ٹراما سینٹر فعال ہونے سے مریضوں کو سہولیات ملیں گی اور بروقت علاج ومعالجہ ممکن ہوسکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں