افغان طالبان کے اہل خا نہ پاکستان میں رہائش پذیر ہیں،شیخ رشید
پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے اہل خانہ پاکستانی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، جن میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ارد گرد کے علاقے بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے نجی نیوز چینل ‘جیو نیوز’ کو اتوار کو دیے جانے والے انٹرویو میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیم کے کچھ ارکان مقامی اسپتالوں سے علاج بھی کرواتے ہیں۔
یہ اہم اعتراف پاکستان کے مستقل مؤقف کی نفی کرتا ہے جس میں وہ ہمیشہ افغان رہنماؤں کی جانب سے اس ضمن میں لگائےجانے والے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے، جن میں یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں کرنے اور جاری رکھنے کے حوالے سے طالبان پاکستانی سرزمین کا استعمال کرتے ہیں۔
اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں کے نام لیتے ہوئے شیخ رشید نے بتایا کہ طالبان کے خاندان یہاں پاکستان کے علاقوں روات، لوئی بیر، بارہ کہو اور ترنول میں رہتے ہیں۔
ان کے بقول کبھی کبھار ان کی میتیں آتی ہیں اور کبھی وہ علاج معالجے کے لیے اسپتالوں میں آتے ہیں۔
ایک طویل مدت سے پاکستان یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ افغانستان سے ملنے والی لگ بھگ 2600 کلومیٹر کھلی سرحد کی وجہ سے شدت پسند باآسانی دونوں ملکوں کے درمیان غیر قانونی نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں لگ بھگ 30 لاکھ افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں۔ جو کہ کبھی کبھار طالبان کے جنگجوؤں کو چھپنے ک جگہ فراہم کرتے ہیں۔
افغانستان میں کئی سالوں سے جاری تشدد اور افراتفری کی وجہ سے بے دخل ہونے والے متعدد افغان خاندان غربت کے شکار اپنے ملک سے بھاگ نکلے تھے۔
دوسری طرف پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اتوار کو کہنا تھا کہ رواں سال 11 ستمبر کی حتمی تاریخ تک جب امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی تو افغانستان شورش اور افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔
اپنے آبائی شہر ملتان میں صحافیوں سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ظاہر ہے اس بارے میں پاکستان کو تشویش لاحق ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر افغان سیکیورٹی کی صورت حال بگڑ کر خانہ جنگی کی حالت اختیار کر لیتی ہے تو یہ بات افغانستان کے لیے نقصان دہ ہونے کے علاوہ اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حاصل کردہ پیش رفت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ جب کہ اس کی وجہ سے مزید افغان مہاجرین پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ پہلے ہی لگ بھگ 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور پاکستان مزید مہاجرینوں کو پناہ نہیں دے سکتا چونکہ پاکستان معاشی طور پر اس حالت میں نہیں ہے کہ مزید بوجھ برداشت کر سکے۔
خیال رہے کہ رواں سال یکم مئی سے جب سے امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان سے باضابطہ طور پر انخلا کا آغاز کیا ہے، طالبان نے افغان حکومت کی افواج کے خلاف حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق امریکی فورسز کا انخلا شرو ع ہونے کے بعد طالبان نے 50 سے زائد اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے، جس سے اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ طالبان پھر سے اقتدار میں آ سکتے ہیں۔
افغانستان کے نیوز نیٹ ورک، ‘طلوع نیوز’ نے اتوار کو خبر دی ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران طالبان نے 108 اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے تاہم افغان سیکیورٹی فورسز نے اسی مدت کے دوران 10 اضلاع کا قبضہ واگزار کروا لیا ہے۔


