لسبیلہ یونیورسٹی کے ملازمین انتظامیہ کے نارواسلوک کیخلاف سراپا احتجاج
اوتھل: لسبیلہ یونیورسٹی کے ملازمین انتظامیہ کے ناروا سلوک کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے،ملازمین یونیورسٹی ایڈمن بلاک کے سامنے بیٹھ گئے،احتجاج کے باعث یونیورسٹی کا کام ٹھپ ہوکر رہ گیا، احتجاج گزشتہ روز یونیورسٹی کے ڈرائیور اختر جاموٹ کی اچانک طبعیت بگڑنے پر یونیورسٹی کی انتظامیہ کیجانب سے ایمبولینس کی عدم فراہمی کیخلاف کیا گیا،احتجاج کی سربراہی کرنیوالے استاد اکرم جاموٹ،غلام مصطفی شاہوک،عثمان مانڈڑہ،امیر بخش مانڈڑہ،نواز علی لنگاہ،احسان اللہ برہ،رسول بخش جاموٹ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کا اپنے ملازمین کیساتھ رویہ غیر مناسب ہے گزشتہ روز ہمارے ساتھی اختر جاموٹ کی دوران طبعیت خراب ہوگئی جسے کراچی ریفر کررہے تھے جس کیلئے رجسٹرار اور ٹرانسپورٹ آفیسر سے ہم نے ایمبولینس مانگی لیکن ان دونوں افسران نے ایمبولینس فراہم کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہمیں ایمبولینس کی فراہمی کیلئے اختیار نہیں ہے جس کے بعد ہم نے پرائیوٹ گاڑی کے ذریعے مریض کو کراچی روانہ کیا انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی ملازم کو ایمرجنسی میں ایمبولینس کی ضرورت پڑ جائے تو ٹرانسپورٹ آفیسر کہتا ہے کہ مجھے اتھارٹی نہیں رجسٹرار کہتا ہے کہ مجھے اتھارٹی نہیں کہ ہم ایمبولینس فراہمی کی اجازت دے سکیں انہوں نے کہا کہ آخر ہم ملازم بھی تو انسان ہے دوران ڈیوٹی بیمار ہوتے ہیں تو یونیورسٹی کی ایمبولینس ہمیں نہ مل سکیں تو ہم کہاں جائے کس کا دروازہ کھٹکھٹائے،انہوں نے وزیراعلی بلوچستان نواب جام کمال خان عالیانی،گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی سے مطالبہ کیا ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا ملازمین کیساتھ ناروا سلوک کا نوٹس لیا جائے علاوہ ازیں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر جلال فیض نیملازمین سے کامیاب مذاکرات کرکے احتجاج ختم کروایا اور کہا کہ وائس چانسلر لسبیلہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد بلوچ کے کوئٹہ سے آتے ہی ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان معاملے کو حل کیا جائے گا۔


