فائز عیسیٰ کیخلاف دوسری نظرثانی کی درخواست کا داخل کرانا ایوان صدر اور وفاقی حکومت کے دعوؤں کی نفی ہے، امان اللہ کنرانی
کوئٹہ:سپریم کورٹ بار ایسوسی کے سابق صدروسینیٹر(ر) امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کا آئین و قانون و قوائد روایت کے برعکس جسٹس قا ضی فائز عیسیٰ کیخلاف دوسری نظرثانی کی درخواست کا داخل کرانا ایوان صدرووفاقی حکومت کے دعوؤں کی نفی ہے۔جبکہ ان کا موقف رہا ہے کہ انہوں نے صرف دستیاب مواد کو آئین کے تحت سپریم جو ڈیشل کو نسل میں بھجوایا مگراب بلی تھیلے سے باہرآگئی۔ شروع سے آخر تک بدنیتی ایاں ہے۔جس پر حکومتی دعوے کرنے والے عہدیدارغلط بیانی کے زمرے آئین و قانون کے تحت صادق و امین کے برعکس دانستہ طورپر ایک قابل مواخظہ عمل کا مرتکب ہوئے ہیں۔جن پر قذف آئین کے آرٹیکل62/63کا اطلاق ہوتاہے۔جو انکی اپنی عوامی عہدوں سے نااہلی پر منتج ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت پا کستان نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ بلوچ جو ہند ستا ن کے سا تھ رابطے میں ہیں ان سے رابطہ نہیں کیا جا ئے گا حکومت کی جانب سے یہ بیان غیر سنجیدہ ہے جب عمران خان خود مو دی کے جیتنے کی دعائیں کر تے تھے اور آج جب وہاں مسلمانوں پر مظالم ہو رہے ہیں تو وہ اپنے با رے میں کیا کہیں گے۔
٭


