نال، کوڑاسک چھڈ میں ہیپاٹائٹس اور یرقان کا خطرناک پھیلاؤ، 4 جانیں ضائع، محکمہ صحت سے نوٹس لینے کا مطالبہ

خضدار(بیورورپورٹ)خضدارتحصیل نال کے دور افتادہ موضع کوڑاسک چھڈ منی چیدگی میں ہیپاٹائٹس اور کالے یرقان نےخوفناک شکل اختیار کرلی ہے مقامی ذرائع کے مطابق پچھلے کچھ کئی ہفتوں سے علاقے میں یہ موذی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے اور بڑی تعداد میں مرد عورتیں اور بچے اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں صورتحال اتنی تشویشناک ہے کہ مبینہ طور پرچار مریضوں کو بروقت طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے وہ جان سے ہاتھ دھونا پڑے جان بحق ہونےوالوں میں دو خواتین اور دومرد شامل ہیں علاقے کے سماجی رہنما مولوی عبدالقیوم سمالانی کونسلر محمد نور اور عبدالحکیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب بھی درجنوں مریض سندھ کے گمبٹ ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے مہنگے ٹیسٹ ادویات اور علاج کے اخراجات برداشت کرنا ان کے بس میں نہیں ہےلوگوں کا کہنا ہے کہ کوڑاسک چھڈ ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں صاف پانی کی سہولت ناپید ہے آلودہ پانی اور غیر معیاری خوراک کے استعمال سے بیماری کے پھیلاؤ کو مزید ہوا ملی ہے گھروں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے سے پورے گاؤں میں خوف و ہراس پھیل چکاہےمولوی عبدالقیوم سمالانی نے حکومت بلوچستان محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہےانکا کہنا تھا کہ علاقے میں ہنگامی بنیادوں پر میڈیکل ٹیمیں بھیجی جائیں تاکہ مریضوں کا مفت چیک اپ اور علاج ممکن ہو سکےانہوں نے ہیپاٹائٹس اور کالے یرقان کی ویکسئین اور ضروری ادویات کی فراہمی کو بھی ناگزیر قرار دیا انہوں نے کہابیماری کے اسباب جاننے کے لیے محکمہ صحت کی ماہر ٹیمیں فوراً کوڑاسک بھیجی جائیں پانی کے نمونے لیے جائیں اور لوگوں کومزیداس موذی مرض سے بچا سکیں انہوں نے کہا علاقہ عوام شدید ذہنی اذیت سے گزررہے ہیں ہر گھر میں کوئی نہ کوئی بیمار ہے اوران کے پاس علاج کے لیے وسائل نہیں ہیں عوامی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان، سیکرٹری صحت بلوچستان،کمشنرقلات ڈویژن، ڈپٹی کمشنرخضدار، ڈی ایچ او محکمہ صحت خضدار سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لےکر متاثرہ خاندانوں کی مدد کریں اور فوری ریلیف کیمپ لگایا جائے اور غریب مریضوں کو مفت ادویات دی جائیں کوڑاسک چھڈ کے مکینوں کاکہنا ہے کہ اگراس بیماری کو نظر انداز کیاگیا تو کل یہ پورے نال اور گردونواح کے لیے خطرہ بن جائے گی اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری ایکشن لے اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں