دشت گوران سے مخالف فریق بزگر کو نکالا جائے، میر پسند خان مینگل

قلات:مخالف فریق کے ثالثین دشت گوران میں بزگر اور مالک کو لڑوانے کے چکر میں ہیں، پہلی دفعہ غیر روایتی ثالثین مقرر کئے گئے معلوم تھاکہ یہ فیصلہ نہیں کرینگے، مخالف فریق سناڑی اور انکے ثالثین ہمارے ثالثین اور مینگل قبائل کے سامنے کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے تو ہمارے ثالثین کو خط لکھ کر فیصلہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا کہ زمین کا فیصلہ کورٹ کریگا اور غیر آباد زمین کا فیصلہ خان آف قلات کریں گے جبکہ خون کے فیصلے ثالثین کریں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان کور کمانڈر و دیگر اعلی حکام تصفیہ ہونے پر مخالف بزگر کو پرامن طریقے سے نکال دیں، ان خیالات کا اظہار ذگر مینگل قبیلہ کے رہنما میر قمبر خان مینگل کے فرزند میر پسند خان مینگل، میر بالاچ خان مینگل نے خلق شہید میر لونگ خان مینگل دشت گوران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سناڑی قبیلہ کے ثالثین نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ ثالثین کا فیصلہ نہیں اور مینگل قبیلہ کے پاس کوئی ثبوت نہیں لیکن مینگل قبائل نے بہت ثبوت پیش کئے تھے یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ قبائلی روایات کی پامالی ہے مگر روایات کو تو وہ لوگ جانتے ہیں جو قبائلی روایات بلوچ اور براہوِئی ہوتے ہیں بلوچستان میں ان کی کوئی تاریخ ہوتی ہے دوسرا ثالث صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو جس پر ہمارے قبائل کے لوگوں نے پہلے دن سے ہی اعتراض کیا تھا کہ ان کا مینگل قبائل کے ساتھ دشمنی ہے اور ان کے ہاتھ پہلے سے مینگل قبائل کے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جبکہ تیسرا ثالث انور ساجدی قلم کار اور اخبار ایڈیٹر ہے۔انہوں نے کہا کہ براہوی بلوچ قوم میں اس سے پہلے بھی کتنے خونی تصادم ہوئے ہیں انکے قبائلوں کے سرداروں اور معتبرین نے تصفیہ کیا ہے پہلی دفعہ ایسے غیر روایتی لوگوں کو مخالف فریق نے ثالث مقرر کیا۔ ہمیں معلوم تھا کہ یہ تینوں ثالثین فیصلہ نہیں کر سکیں گے انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ روایتی قبائلی سرکردہ رہنما ہوتے تو یہ سوال مخالف فریق سے ضرور کرتے کہ 5 ستمبر 2015 میں تم نے تین ثالثین مقرر کئے تھے جنمیں نواب محمد خان شاہوانی، سردار کمال خان بنگلزئی اور میر کبیر جان محمد شہی ان سے کیوں اپنا اختیار واپس کیا؟ ان میں کیا خرابی ہے کہ تین سال بعد ہمیں ثالث لے رہے ہو یہ غیر روایتی غیر اخلاقی عمل ہے ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے غیر روایتی ثالثی پر عمل کرکے ایک دن کے اندر عزت اور نام کمانے کیلئے ڈپٹی کمشنر آفس قلات پہنچ کر ثالث بن گئے رسم و رواج کے مطابق مخالف بزگر سناڑی کے ثالثین دستبردار ہو گئے ہیں فیصلہ کے بعد ہم مینگل قبائل وزیراعلی بلوچستان کورکمانڈر بلوچستان اور دیگر تمام اداروں سے اپیل کرتے ہے کہ ریکارڈ اور قبائلی تصفیہ ہونے اور مخالف فریق بزگر کو پر امن طریقے سے فارغ کریں ورنہ مینگل قبائل خود مجبورا قدم اٹھا کر قابض بزگر کو سبق سکھائے گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں