مذاکرات کیلئے خان قلات کی شرط
لندن(انتخاب نیوز)مذاکرات کیلئے خان قلات کی شرط خان آف قلات نے اپنے سے منسوب کچھ خبروں کی سختی کے ساتھ تردید ۔خان آف قلات کے ترجمان نے کہا ہے کہ خان آف قلات ، میر سلیمان داؤد احمد زئی نے اپنے حوالے سے منسوب اس خبر کی پرزور الفاظ میں تردید کی ہے کہ اس نے پاکستانی وفد سے بات کرنے پےآمادگی ظاھر کی ہے ترجمان نے کہا کہ خان آف قلات میر سلیمان داؤد احمد زئی نے سختی سے کہا ہے نہ وہ کسی سے ملے ہیں نہ ہی اور نہ ہی اس نے کسی سے بات کرنے میں آمادگی ظاھر کی ہے ۔ترجمان نے مزید کہا کہ خان آف قلات میر سلیمان داؤد احمد زئی نے مزید یہ بھی کہا کہ وہ جب بھی بات کرینگے تو بلوچ عوام کو اعتماد میں لیکر کسی دوسری یورپی یا مغربی ملک کی بحتیت ضمانتی میں بات چیت شروع کرینگے مگر اس بات کو چیت کو بھی شروع کرنے سے پہلے حکومت پاکستان کو ہمارے وہ شرائط پورے کرنے ھونگے جو ہم 14 سالوں سے مختلف پاکستانی حکومتوں کے سامنے رکھ رہے جو ہم سے بات کرنے یا ملنے کا کہتے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ھے کہ خان آف قلات نے مزید کہا کہ جب تک پاکستان کے حقیقی حکمران میرے شرائط جو پہلے دن سے میں بیان کرچکا ہوں ان پے عمل درآمد نہیں کرتے ان کے مکمل ھونے تک نہ وہ ابھی تک کسی بات چیت پے آج تک نہ آمادہ ھوئے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ہونگے اگر پاکستان کے حقیقی حکمرانوں نے اس کے وہ شرائط مان لئے تو تب جاکر بات شروع ہوگی وہ بھی بلوچ قوم کے سامنے اور کسی تیسری غیر جانبدار ملک کی ضمانتی میں بات چیت کا عمل شروع ھوگا ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ خان آف قلات اپنی عیش و آسائش کی زندگی کو چھوڑ کر بلوچستان اور بلوچوں کے حقوق کے خاطر لندن میں جلاوطنی کی زندگی گذار رے ہیں اور حکومت پاکستان ان سے وقتا فوقتا مذاکرات کے کئے ہیں مگر وہ اپنے شرائط کی تکمیل تک بات چیت کے لئے راضی نہیں ہورے ہیں


