بی این پی گزشتہ کئی عشروں سے بلوچستان کی دفاع کی جدوجہد میں مظالم کے خلاف کھڑی ہے، موسیٰ بلوچ

مستونگ: بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع مستونگ کے زیر اہتمام کلی رود رئیس پڑنگ آباد میں شمولیتی پروگرام منعقد ہوا مہمان خاص پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ، اعزازی مہمان بی ایس او کے مرکزی چیئرمین جہانگیر منظور بلوچ، غلام نبی مری اور ملک عبدالرحمن خواجہ خیل تھے اس موقع پر سیاسی وسماجی نوجوان رہنماء نجیب اللہ لہڑی اور منظور احمد بلوچ نے سینکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ بلوچستان نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ، بی ایس او کے مرکزی چیئرمین جہانگیر منظور بلوچ، بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری، ملک عبدالرحمن خواجہ خیل، ضلعی جنرل سیکرٹری جمیل بلوچ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری چیئرمین عبدالقدیر محمد حسنی، ضلعی انفارمیشن سیکرٹری امیر جان بلوچ، ضلعی فنانس سیکرٹری میر عبدالغفار مینگل، کسان وماہی گیر سیکرٹری محمد اکرم لودہی، لیبر سیکرٹری میر فرید مینگل، بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے رکن عدنان شاہ بلوچ، بی ایس او کے زونل آرگنائزر عصمت بلوچ ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے نوجوان سماجی سیاسی وسماجی رہنماء نجیب اللہ لہڑی اور منظور بلوچ کوسینکڑوں ساتھیوں سمیت پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک ایسے وقت میں یہ دوست پارٹی کیساتھ اپنی سیاسی وابستگی کا اعلان کررہے ہیں جو پارٹی گزشتہ کئی عشروں سے بلوچ قوم کے حقوق اور بلوچستان کی دفاع کی جدوجہد میں نبرآزما قوتوں کی جاری مظالم استحصال قومی وسائل پر لوٹ کھسوٹ سماجی ناانصافیوں انسانی برابری کے حقوق کی جدوجہدمیں مصروف عمل اور قربانیاں دیتی چلی آرہی ہے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بی این پی کی قیادت اور کارکنوں نے مظالم اور ناانصافیوں کے سامنے کبھی بھی اپنے لوگوں کو مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑا اور نہ ہی بلوچستان اور بلوچ قوم کو درپیش مظالم کیخلاف خاموشی اختیار کرکے راہ فرار اختیار کی پارٹی حقیقی معنوں میں عظیم بلوچ بزرگ قوم وطن دوست رہنماء سردار عطاء اللہ خان مینگل کی رہبری اور پارٹی قائد اختر جان مینگل کی قیادت میں حقیقی معنوں میں قوم وطن دوستی کی سیاست فکر وخیال کو آگئے بڑھاتے ہوئے حصولوں پر کاربند رہتے ہوئے جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے بلوچستان کے دیرینہ قومی سیاسی مسائل کو حل کرنے کیلئے شراکت اقتدار کی بجائے چھ نکات کی شکل میں بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی گوادر میں بلوچوں کو اقلیت میں بدلنے جغفرافیائی تبدیلی کو روکنے کیلئے قانون سازی کیلئے اور بلوچستان کے کوٹہ میں چھ فیصد ملازمتوں پر عملدرآمد اور یہاں کے سائل وساحل صوبے کے عوام کی حق حاکمیت واک واختیار تسلیم کرانے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی طور پر آباد افغان مہاجرین کی باعزت انخلاء کو یقینی بنانے کیلئے تعلیم صحت روزگار اور قومی شاہرا?ں کو دورویہ بنانے کیلئے مختلف علاقوں میں پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیمز کی تعمیر جیسے اجتماعی مطالبات کو وفاقی حکومت کے سامنے رکھ کر ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی موجودہ دور میں کوئی شخص درجہ چہارم کی ملازمت نہیں چھوڑ تا ایک اسمبلی کا رکن ایک وزارت کے حصول کیلئے لوگوں کے پا?ں پکڑ کر ان کی منت وسماجت کرتے ہیں ایسے میں بی این پی نے اقتدار کو ٹھوکر ماکر بلوچ قومی سوال، ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی آئین وقانون کی بالادستی عدلیہ اور میڈیا کی آزادی، محکوم اقوام کو اپنے ہزاروں سالوں پر مشتمل اپنے مادر وطن کی سرزمین کے او پر اور نیچے وسائل پر ان کی آئینی اور پیدائشی حق تسلیم کرنے کیلئے جو اصولوں موقف اپنایا آج پارٹی قیادت کی سوچ اور موقف کو دنیا کے تمام سیاسی حلقے اور حقیقی جمہوری قوم وطن دوست، روشن خیال ترقی پسند سیاسی جماعتیں اس کو سہرارہے ہیں کہ اس ملک میں بی این پی وہ سیاسی جماعتی ہے جو بزرگ قوم پرست عظیم سیاسی رہنماء سردار عطاء اللہ خان مینگل جس کی عمر 93سالہ قومی جدوجہد پر مشتمل ہے اور سردار اختر جان مینگل وہ واحد رہنماء ہیں جنہوں نے اس ملک میں ایک نیا اصول حقیقت پسندی قوم وطن دوستی اور قوم پرستی کی فکر و خیال کو متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سلیکٹڈ اور بے اختیار ہے انہیں یہاں کے وسائل کی لوٹ کھوسٹ، اقتدار کو دوائم دینے کیلئے لایا گیا ہے انہیں لوگوں کے مسائل اور مشکلات دور کرنے صوبے کو ترقی دینے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور سلیکٹڈحکومت بلوچوں کو ناراض قرار دے کر مذاکرات کے نام پر ان کا مذاق اڑارہی ہے بلوچ کسی سے ناراض نہیں اپنے مادر وطن ساحل وسائل پر واک واختیارمانگ رہے ہیں اور یہ بلوچستان کوئی انتظامی یونٹ نہیں ہے بلکہ ہزاروں سالوں پر مشتمل بلوچوں کا مادر وطن ہے اور بلوچ قوم اس سرزمین کے مالک ہیں۔ رہنما?ں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بلوچ عوام باشعور ہیں اپنے اچھے اور برے کو جانتے ہیں کہ کون مراعات اور وزارتوں کیلئے دوڑکر رات کی تاریکی میں معاہدے کرتے ہیں اور وہ سیاسی قیادت بی این پی ہے جس نے تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات میں وزارتوں کا مطالبہ کرنے کی بجائے بلوچ قوم کے مفادات کو ان کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہاکہ مستونگ اور پڑنگ آباد وہ زرخیر سیاسی سرزمین ہے جس نے تین کلومیٹر پر مشتمل فاصلہ پر عظیم سیاسی رہنما?ں کو پیدا کیا ان میں ملک فیض محمد یوسفزئی، ملک سعید دہوار، مولانا عرض محمد، مولانا محمد عمر، میر خدابخش محمد شہی، ملک سیف الدین دہوار اور ڈاکٹر حیات اللہ درانی شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ سماج میں ناانصافیوں کے خاتمہ کرکے بلوچ قوم کو حقیقی قومی حقوق کی جدوجہد کی جانب راغب کیا۔ اس موقع پر پارٹی رہنما?ں نے شہید چیئرمین منظور بلوچ، شہید نور اللہ بلوچ، شہید یوسف بلوچ، شہید محمد افضل قلندرانی، شہید ملک نوید دہوار سمیت پارٹی کے دیگر شہداء کو قومی حقوق کی جدوجہد پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ارمانوں کو پایہ تکیمل تک پہنچائیں گے اور اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں