بیلہ، شپ بریکرز مزدوروں کے حقوق دینے سے گریزاں

بیلہ:گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں لیبر قوانین اور حقوق کی پامالی مزدور بنیادی سہولتوں سے یکسر محروم میڈیکل سمیت دیگر مراعات بھی مزدوروں کو میسر نہیں کروڑوں روپے کمانے والے شپ بریکرز مبینہ طور پر مزدوروں کے حقوق دینے سے گریزاں تفصیل کے مطابق ملک کے سب سے بڑے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں مزدور کسمپرسی اور بنیادی حقوق حقوق سے محرومی کا شکار ہیں آن لائن کو موصولہ اطلاعات کے مطابق گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں ایک سو کے قریب شپ بریکنگ پلاٹس پر کام کرنے والے سینکڑوں مزدور پینے کے صاف پانی علاج معالجے سمیت سیفٹی اور حادثات میں زخمی یا فوت ہونے کی صورت میں مراعات سے محروم ہیں علاوہ ازیں آس پاس کی انسانی آبادی پر مشتمل بستیاں شیخ آباد و دیگر ملحقہ گوٹھوں کو بھی شپ بریکنگ یارڈ کی طرف سے کوئی سوشل ویلفیئر ریلیف میسر نہیں گڈانی کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں انہیں مزدوری کیلئے بھی کام پر رکھا نہیں جا رہا اور جو مزدور شپ بریکنگ یارڈ میں کام کر رہے ہیں انہیں بھی اکثر اوقات کئی کئی روز تک کام اور مزدوری سے فارغ کردیا جاتا ہے انہوں نے کہا گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں مقامی افراد کے ساتھ ناانصافیاں اور زیادتیاں عروج پر ہیں اور ان زیادتیوں کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں ہے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں مقامی افراد کیلئے مزدوری کے دروازے بند ہیں جو سراسر مالی استحصال اور معاشی قتل عام کے مترادف ہے انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان سے مطالبہ کیا ہے کہ شپ بریکرز کی من مانیوں کا نوٹس لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں