بلوچستان کے مسائل حل کئے جائیں، ناراض لوگوں سے بات کرنے کی ضرورت نہیں، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان
کراچی:بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ علاوالدین مری نے کہا ہے کہ اگربلوچستان کے معدنی ذخائرز،زرعی لائیو اسٹاک،گیارہ سو کلومیٹر ساحلی پٹی اور کان کنی سے بھر پور استفادہ کیا جائے تو ملکی معیشت بلندی کی اعلی ترین مقام پر پہنچ سکتی ہے جس کے لیے حکومت کو زیر التواء ترقیاتی منصوبوں کو فائلوں سے نکال کر پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چاغی میں موجود ونڈ کوریڈور سے بارہ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، ساحلی پٹی کو فشریز، سیاحت اور سی فوڈ انڈسٹری کو فروغ دے کر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے،ایران اور افغانستان کے ساتھ ٹریڈ پالیسی پر نظر ثانی کی جانی چاہیے جس سے برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور زرعی اصلاحات کے ذریعے کم پا نی لینے والی فصلیں اگائی جاسکتی ہیں جنکے ذریعے خام مال اور ویلیوایڈڈ پراڈکٹس کو برآمد کرکے خطیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔گذشتہ روز انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ بلوچستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ترقیاتی منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے افتتاح کرنے کی تختیاں لگائی جاتی ہیں مگر ان کو پایہ تکمیل کو نہیں پہنچایا جاتا البتہ افتتاحی تقریب کی تختیان تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ 2018میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے گوادر میں 15ملین گیلن روزآنہ سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے ایک پلانٹ کا منصوبہ شروع کیا تھا لیکن اس پر کام شروع نہیں کیا گیا اور تین سال بعد وزیر آعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں ایک نئے نام سے اس کا افتتاح کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کے احساس محرومی کے ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہرگز نہیں ہے اس کے ذمہ دار خود ہمارے سیاستداں ہیں جو اقتدار میں نہیں ہوتے ہیں تو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے بڑے بلندو بانگ دعوے کرتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو کچھ نہیں کرتے ہیں اور ترقیاتی پروگراموں کا بجٹ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری فوج بلوچستان میں سیکورٹی کے حالت بہتر بنانے کے لیے بڑی محنت کررہی ہے اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کررہی ہیں، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہماری فوج کوئی رکاوٹ نہیں ہے جس کی وہ خود مثال پیش کرسکتے ہیں کہ جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو فوج کے کسی بھی افسر نے انہیں کوئی کام شروع کرنے یا نہ کرنے کا کبھی دباو نہیں ڈالا بلکہ ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ناراض سیاستدانوں سے مذاکرات کرنے کے بجائے اگر بلوچستان کے لوگوں کے بنیادی مسائل جن میں غربت، مہنگائی،بے روزگاری،تعلیم و علاج معالعجہ کی سہولتیں، بجلی و گیس کی فراہمی، پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور سماجی انصاف فراہم کرنے پر توجہ دی جائے تو پھر ناراض لوگوں سے بات کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔


