بی ایم سی سے ملحقہ کالونی اور گرلز ہاسٹل علاقہ اوباش نوجوانوں کا گڑھ، انتظامیہ خاموش تماشائی
کوئٹہ: بولان میڈیکل کالج سے ملحقہ کالونی اور گرلز ہاسٹل سے متصل علاقہ اوباش نوجوانوں کا گڑھ بن گیا بغیر سیکورٹی چیک بغیر روک ٹوک رات گئے اور دن بھر نرسنگ ہاسٹل گرلز ہاسٹل کے قریب سیاہ شیشے والی گاڑیوں کی بھرمار کالج اور یونی ورسٹی انتظامیہ خاموش تماشائی اور سہولت کار کا کردار ادا کرنے لگیں تفصیلات کے مطابق صوبے کے سب سے بڑے میڈیکل کالج بولان میڈیکل کالج سے ایف سی کی چیک پوسٹ کے خاتمے کے بعد پولیس کا ایک اہلکار صرف مرکزی دروازے پر تعینات رہتا ہے جو کہ کسی بھی گاڑی کو بغیر کسی روک ٹوک کے دن ہو یا رات کوئی کوائف جمع کئے بغیر کالج اور یونی ورسٹی کے احاطے میں داخلے کی اجازت دے دیتا ہے کالج کے اندر موجود واچ ٹاورز پر کوئی اہلکار تعینات نہیں کالونی میں موجود ڈاکٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیاہ شیشے والی گاڑیوں کو دن ہو یا رات مختلف جگہوں پر پارک دیکھا جاسکتا ہے ہاسٹل وارڈن اگر ہاسٹل رولز پر پابندی کروائیں اور مرکزی دروازے سے کسی گاڑی کو داخل ہونے سے قبل اگر اسکے کوائف شناختی کارڈ یا پھر گاڑی کے کاغذات جمع کئے جائیں اور داخلی دروازے پر رجسٹر رکھ کر انٹری کی جائے تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے تاہم کالج اور یونی ورسٹی انتظامیہ خواب غفلت سے اسوقت بے دار ہوگی جب کوئی سانحہ ہوگا


